ویب سروسز کے ساتھ ایمازون کی پاکستان میں باضابطہ انٹری

کمپنی نے اسلام آباد میں دفتر قائم کرکے ٹیم کی تیاری شروع کردی، پاکستان میں Paul Andrew Macpherson سی ای او اور شعیب منیر ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں ادا کریں گے

1992

سنگاپور :  ایمازون نے پاکستان میں اپنی خدمات کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنا شروع کردیے۔ اس مقصد کے لیے اسلام آباد میں ایمازون ڈیٹا سروسز پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے دفتر رجسٹر کروا کر ایمازون ویب سروسز کے لیے ٹیم کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی کا پاکستان میں دفتر Paul Andrew Macpherson بطور سی ای او اور شعیب منیر بطور ڈائریکٹر چلائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان 38 برآمد کنندگان کو ایمازون کیساتھ رجسٹر کروانے کو تیار

امریکی انتظامیہ  نے ایمازون کی 5  غیر ملکی ویب سائٹس کو بلیک لسٹ کر دیا

نام نہ بتانے کی شرط پر ایمازون کے ایک اہلکار کا بتانا تھا کہ کمپنی ان دنوں پاکستان کے لیے پبلک پالیسی ماہر کی تلاش میں ہے اور اسکی توجہ ملک میں ایمازون ویب سروسز کی کلاؤڈ کمپیوٹنگ سلوشن کو اپنانے پر ہے۔

واضح رہے کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے تمام بنکوں کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ہدایت کی تھی مگر ساتھ میں یہ شرط بھی رکھی تھی کہ اس حوالے سے سسٹم اور سروسز فراہم کرنے والی کمپنی کا تمام خدمات اور سرورز کے ساتھ ملک کے اندر ہونا ضروری ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ ایمازون ویب سروسز کو پاکستان میں اپنا ڈیٹا سنٹر اور کلاؤڈ سرور لانا پڑا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں ای کامرس کو فروغ دینے اور اس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن پاکستان کی پہلی کلاؤڈ پالیسی کی تیاری پر کام کر رہی ہے جبکہ ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کا ڈرافٹ کنسلٹیشن کے سٹیج پر ہے۔

ایمازون ویب سروسز پاکستان میں متعلقہ محکموں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُر امید ہے جنھوں نے ڈیجیٹل اکانومی، کلاؤڈ فرسٹ ، ڈیٹا پروٹیکشن، آؤٹ سورسنگ کی گائیڈ لائنز ، ٹیکس اور سائبر سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے کافی کام کرلیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here