بزدار حکومت کا ایس او پیز کے تحت مزید کاروبار کھولنے پر غور

سفارشات تیار،میرج ہالز، ریسٹورنٹ، بزنس سنٹرز، سیاحتی مقامات، سپورٹس کلبز، پارکس، سینما ہالز اور تھیٹرز کھولنے کیلئے وفاقی حکومت سے اجازت درکار

415

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب حکومت کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کیلئے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید کاروبار کھولنے پر غور کررہی ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ کی سربراہی میں مختلف چیمبرز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ موجودہ حکومت کاروبار دوست اور صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھارہی ہے۔ انڈسٹری، لیبر، سوشل سکیورٹی اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ تاجروں سے بھرپور تعاون کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کاروباری شعبہ کے مفاد میں تین روز قبل ہی لاک ڈاﺅن ختم کردیا، تمام فیصلے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔ مزید کاروباروں کو ایس او پیز کے تحت جلد ہی کھول دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مفاد عامہ کے منصوبے جاری رکھے جائیں گے، میٹرو ٹرین چلائی جائے گی جس کا ٹیسٹ رن پہلے ہی ہو چکا ہے۔

عثمان بزدار نے کہا کہ گوجرانوالہ کو موٹروے سے منسلک کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی، گوجرانوالہ شیخوپورہ  روڈ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کی جائے گی، فیصل آباد کی ترقی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ٹرک اڈہ کی لاہور شہر سے باہر منتقلی کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ وہ جلد ہی لاہور اور دیگر چیمبرز کا دورہ کریں گے۔

لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی حیثیت سے پنجاب کو ملک کے معاشی استحکام کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا، پنجاب مینوفیکچرنگ، سروسز اور زراعت کا مرکز ہے، قومی معیشت ، جی ڈی پی، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں اس کا حصہ نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ٹیکسٹائل، مشینری، کھیلوں کے سامان، بجلی کا سامان، آلات جراحی، گاڑیاں، آٹو پارٹس، دھاتیں، شوگر ملوں، سیمنٹ، زراعت کی مشینری اور پروسییسڈ فوڈ وغیرہ کے 68 ہزار سے زائد یونٹس ہیں جو روزگار اور ٹیکس کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں۔

لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ تاجر برادری معیشت کا اہم ستون ہے، اسے پرسکون کاروباری ماحول مہیا کرکے ملک کو تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں صنعتوں کو جدید اور بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی ، کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی، ون ونڈو آپریشن اور ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی جیسی سہولیات دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صنعتی کلسٹرز قائم کرنے سے سرمایہ کاری میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی روزگار کے بے شمار مواقع بھی میسر آئیں گے۔

سفارشات تیار، کاروبار کھولنے کیلئے وفاق کی اجازت درکار

دوسری جانب  وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے انسدادِ کرونا کی جانب سے نیگٹو لسٹ میں شامل کاروبار کھولنے کے حوالے سے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے این سی او سی اور وفاقی حکومت کو مجوزہ ایس او پیز کے تحت کاروبار کھولنے کے حوالے سے سفارشات تیار کر لی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب میرج ہالز، ریسٹورنٹ، بزنس سنٹرز، سیاحتی مقامات، سپورٹس کلبز، تفریحی پارکس، سینما ہالز اور تھیٹرز کھولنے کے لیے وفاقی حکومت سے اجازت طلب کرے گی۔

فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ مندرجہ بالا کاروبار کھولنے سے متعلق حتمی فیصلہ این سی او سی سے منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کورونا میں واضح کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی سرگرمیاں تیز کرنا چاہتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here