کورونا، 97 لاکھ بچے دوبارہ سکول نہیں جا سکیں گے

وائرس کے نتیجے میں اقتصادی شرح نمو گرنے سے دنیا بھر میں مزید 9 کروڑ سے 11 کروڑ 70 لاکھ بچے غربت کا شکار، سکولوں میں داخلوں کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: سیو دی چلڈرن کی رپورٹ

305

لندن: بچوں کے حقوق کی برطانوی تنظیم سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں سکولوں کی بندش سے متاثرہ ایک کروڑ کے قریب بچے دوبارہ کبھی سکول نہیں جا سکیں گے۔

اپنی تازہ رپورٹ میں سیو دی چلڈرن نے اقوام متحدہ کے ادارے یونسیکو کے اپریل کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کورونا وائرس لاک ڈاﺅن کے باعث تعلیمی سرگرمیاں معطل ہونے سے دنیا بھر میں 1.6 ارب ( 1 ارب 60 کروڑ ) بچے سکولوں سے محروم ہوئے ہیں جو عالمی سطح پر زیر تعلیم بچوں کے 90 فیصد کے قریب ہیں جبکہ ان میں سے 9.7 ملین (97 لاکھ) بچے ایسے ہیں جو دوبارہ کبھی سکول نہیں جا سکیں گے۔

انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا بھر کے بچوں کی تعلیم ایک ہی وقت پر متاثر ہوئی ہے۔

سیو دی دی چلڈرن کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ وائرس کے نتیجے میں اقتصادی شرح نمو گرنے سے دنیا بھر میں مزید 90 سے 117 ملین ( 9 کروڑ سے 11 کروڑ 70 لاکھ) بچے غربت کا شکار ہوئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں سکولوں میں داخلوں کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اس کے علاوہ بڑی تعداد میں نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں اور لڑکیوں کو قبل از وقت شادیوں پر مجبور کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کی معاونت کرسکیں۔

یوں 7 ملین سے 9.7 ملین کے درمیان بچے مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہوجائیں گے۔

برطانوی تنظیم کے مطابق وائرس کے نتیجے میں کم اور درمیانے درجے کی آمدنی کے حامل ممالک کے تعلیمی بجٹ میں 2021ء کے آخر تک 77 ارب ڈالر کی کمی آ سکتی ہے۔

سیو دی چلڈرن کے چیف ایگزیکٹو انگر ایشنگ نے کہا کہ ایک کروڑ کے قریب بچوں کا تعلیم سے محروم ہونا ایسی ہنگامی صورت حال ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں، حکومتوں کو چاہیے کہ وہ تعلیمی سرگرمیوں کے لیے ہنگامی سطح پر سرمایہ کاری کریں، تعلیمی بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتی سے امیر و غریب اور لڑکوں اور لڑکیوں کو بڑے پیمانے پر عدم مساوات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں اور مخیر شخصیات و ادارے عالمی تعلیمی پروگرام کے تناظر میں فروغ تعلیم کے مزید مزید فنڈز خرچ کریں تاکہ بچوں کو سکولوں میں واپس لاکر حفظان صحت کے اصولوں کے تحت تعلیم سے فیض یاب کیا جا سکے۔

ایشنگ نے کہا کہ ہم غریب ترین اور پسماندہ بچوں بارے آگاہ ہیں جو پہلے ہی بہت پیچھے رہ چکے تھے اور اب انہیں نصف تعلیمی سال کے لیے فاصلاتی یا کسی بھی قسم کی تعلیم تک رسائی نہ ہونے کے سبب سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کمرشل قرض دہندگان پر بھی زور دیا کہ وہ کم آمدنی والے ممالک کے قرضوں کی ادائیگی معطل کر دیں اس سے انہیں 14 ارب ڈالر کی رقم تعلیمی سرگرمیوں کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس تعلیمی بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات نہیں کریں گے تو اس کا بچوں کے مستقبل پر اس شدید منفی اثر ہو گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اہداف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا نے 2030ء تک تمام بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی کی فراہمی یقینی بنانے کا وعدہ کررکھا ہے اس کی تکمیل کے لیے بھرپور کوششیں کرنی ہوں گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here