نوشین امجد کی جگہ جاوید غنی چیئرمین ایف بی آر تعینات

پی ٹی آئی حکومت میں چوتھا چیئرمین تبدیل، نوشین امجد کا نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن میں تبادلہ، ٹیکس نیٹ میں وسعت، آمدن میں اضافے کیلئے حکومت کی ایف بی آر کو عالمی بینک کے ’پاکستان ریزز ریونیو پروگرام‘ کے نفاذ کیلئے کام کرنے کی ہدایت

374

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نوشین امجد کی جگہ محمد جاوید غنی کو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا اضافی چارج دے دیا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق جاوید غنی تین سال یا نئے مستقل چیئرمین ایف بی آر کی تعیناتی تک اس عہدے پر تعینات رہیں گے۔

2018ء میں اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے ایف بی آر کے چیئرمین کو چوتھی مرتبہ تبدیل کیا گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ دوسرے نوٹی فکیشن کے مطابق نوشین امجد کا تبادلہ نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن میں کر دیا گیا ہے، ان کے تبادلہ کی کوئی خاص وجہ بیان نہیں کی گئی، نوشین امجد ان لینڈ ریونیو سروس میں گریڈ 22 کی افسر اور ایف بی آر کی چیئرپرسن کے فرائض سرانجام  دے رہی تھیں۔

ایف بی آر کے نئے چیئرمین محمد جاوید غنی پاکستان کسٹمز سروسز میں گریڈ 22 کے افسر ہیں، وہاں سے ان کا تبادلہ ایف بی آر میں کرکے چیئرمین کی اضافی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی۔

ایف بی آر کے اندرونی ذرائع کے مطابق حکومت ٹیکس ادارے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کرنا چاہتی ہے اور اس کیلئے اسے طبور چیئرمین مناسب امیدوار کی تلاش ہے، وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے سیکریٹری طارق پاشا سمیت مختلف نام بھی اس حوالے سے زیر غور رہے ہیں۔

طارق پاشا رواں سال ستمبر میں ریٹائرڈ ہو جائیں گے جبکہ حکومت انہیں دو سال کیلئے چیئرمین ایف بی آر تعینات کرنا چاہتی تھی، وہ وزیراعظم ہائوس میں تعینات ایک اہم شخصیت کے بھی قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ پرافٹ اردو کو معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے سادگی و ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے بھی اصلاحات کے حوالے سے ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کے ساتھ چار سے پانچ اجلاس کیے تھے تاہم وزیر اعظم آفس چاہتا ہے کہ ایف بی آر میں ورلڈ بینک کا ’پاکستان ریزز ریونیو پروگرام‘ نافذ کیا جائے لیکن گزشتہ سال ایف بی آر اور کسٹمز حکام نے اس قسم کے حکومتی فیصلے کے نفاذ کی مزاحمت کی تھی۔

مگر اب ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے دوبارہ گزشتہ ہفتے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی ہے کہ عالمی بینک کا پروگرام نافذ کرنے کیلئے کام شروع کیا جائے تاکہ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع اور آمدن میں اضافہ کیا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here