حکومتی دعوئوں کے برعکس غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ، عوام کو مشکلات

121

اسلام آباد: پاور ڈویژن کے ملک بھر میں زیرو لوڈشیڈنگ کے دعوؤں کے برعکس بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث شدید گرمی میں شہریوں کا جینا دو بھر ہو گیا ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق مصروف اوقات میں بجلی کی طلب 18 ہزار 819 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی (ہفتے کو دو ہزار 30 میگاواٹ)۔ جبکہ یومیہ طلب پوری کرنے کے لیے 22 ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب ہے۔

ترجمان پاور ڈویژن نے تصدیق کی ہے کہ ترسیلی کمپنیاں (ڈسکوز) اپنی طلب کے مطابق مین گریڈ سے بجلی وصول کررہی ہیں، انہوں نے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر سسٹم میں خرابی یا مرمت کرنے کے کام کے باعث بجلی بند کی جاتی ہے جسے لوڈشیڈنگ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے:

شنگھائی الیکٹرک کے الیکٹرک کے 66.4 فیصد شئیرز خریدنے کو تیار

کے الیکٹرک سے لوڈشیڈنگ ختم، ترسیلی نظام کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کا مطالبہ

تاہم، ذرائع کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں یومیہ چھ گھنٹے سے زائد غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے،  اس کے علاوہ  وہ علاقے جہاں لوڈشیڈنگ نہیں وہاں کم وولٹیج کے مسائل بھی درپیش ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کہ بڑے شہروں میں بجلی کی عدم فراہمی متوسط طبقے کے لیے مزید مسائل کا سبب بن رہی ہے، طلباء کو بھی لوڈشیڈنگ کے باعث آن لائن کلاسز لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت کی پالیسی کے مطابق مرمت اور بحالی کے کام کے علاوہ بجلی چوری یا بلز کی ریکوری کم ہونے والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جا سکتی ہے تاہم یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

کراچی میں بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے نیشنل گرڈ سے کے الیکٹرک 800 میگاواٹ بجلی وصول کر رہی ہے، ذرائع کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے لیے کے الیکٹرک وافر مقدار میں فرنس آئل ہونے کے باوجود کم فرنس آئل استعمال کررہی ہے۔ بن قاسم میں دو پاور پلانٹس کی بندش سے ملک کے معاشی حب میں بجلی کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here