’مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں پی ٹی آئی کی ضمنی گرانٹس 50 فیصد کم‘

90 فیصد گرانٹس کورونا وائرس کی وجہ سے جاری کیں، ایف بی آر میں خامیاں دور کرنے کے لئے اصلاحات کی ضرورت، پٹرول پر ڈویلپمنٹ لیوی ابھی 30 روپے ہے: حماد اظہر

106

اسلام آباد: وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور کے مقابلے میں پی ٹی آئی حکومت نے ضمنی گرانٹس 50 فیصد کم جاری کیں، 90 فیصد گرانٹس کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جاری کیں، ایف بی آر میں خامیاں دور کرنے کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے، پٹرول پر ڈویلپمنٹ لیوی آج بھی30 روپے ہے، این ایف سی کے پیسے روکنے کا ہمارے پاس کوئی اختیارنہیں ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں گزشتہ مالی سالوں کے ضمنی گرانٹس پر بحث سمٹتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے اپنے دور کے آخری سال میں 600 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس جاری کی گئیں جبکہ 415 ارب بجٹ سے ریگولر گرانٹ کی مد میں دیے گئے۔

گزشتہ سال 222 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس جاری کی گئیں۔ حکومت کی کوشش تھی کہ سپلیمنٹری گرانٹس کو آہستہ آہستہ کم کریں۔ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے 300 ارب کی گرانٹس دی گئیں ، 32 ارب کی گرانٹس پٹرولیم سیکٹر کو دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ کرنسی کے فرق کی وجہ سے یہ گرانٹس دی گئیں۔ وزیراعظم آفس کی گرانٹس این ڈی ایم اے کو دی گئیں۔ پٹرولیم کا ایک کیس ماضی کے ادوار کا نکلا تھا، ٹیکنکل گرانٹس کے تحت ان کو ایک ڈیڑھ ارب کی رقم دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تین قسم کی سپلیمنٹری گرانٹس ہوتی ہیں۔ ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ اور ریگولر سپلیمنٹری گرانٹ جس میں بجٹ سے ہٹ کر پیسے دیئے جاتے ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ ایف بی آر کو انڈسٹریل شعبے میں بہتری کیلئے پیسے دیئے گئے۔ وزارت صنعت وپیداوار کو 35ارب روپے یوٹیلٹی سٹورز کو رمضان پیکج کی مد میں دیئے گئے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے جو اقدامات کئے گئے ان مثبت ثمرات ملے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کیلئے جو رقم بچے گی وہ سٹیٹ بینک کے اکاﺅنٹ میں رکھی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ این ایف سی کے پیسے روکنے کا ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے جو پیسہ اکٹھا کیا جاتا ہے اس کی نسبت ایف بی آر پر کم پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور کے آخری سال میں 30 روپے ڈیویلپمنٹ لیوی لگائی گئی تھی ۔ پیٹرول پر آج بھی پی ڈی ایل 30 روپے ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے علاوہ رواں سال کوئی ریگولر سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں بہتری کی ضرورت ہے۔ سی پیک کے لئے ساڑھے سات ارب نہیں ساڑھے سات کروڑ رکھے گئے ہیں۔ ہم نے کورونا وائرس کی وبا اور کرنسی کے ایشو کے علاوہ کوئی ضمنی گرانٹس نہیں دی۔ پٹرول کی قیمتوں کو عالمی منڈی کی وجہ سے بڑھایا گیا۔ ضمنی گرانٹس کی آڑ میں سیاسی تقاریر کا جواب دے کر ایوان کا وقت ضائع نہیں کروں گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here