ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیکویڈیٹی بحران پر قابو پانے کیلئے 6.2 ارب روپے کی اضافی گرانٹ جاری

240

لاہور: مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد نے ڈرابیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیوی (ڈی ایل ٹی ایل) سکیم کے تحت ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے 6.2 ارب روپے کی اضافی گرانٹ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک پریس ریلیز کے مطابق جاری مالی سال 2019-20ء کے دوران  ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے ڈی ایل ٹی ایل سکیم کے تحت 51.2 ارب روپے کی مجموعی رقم جاری کی جا چکی ہے۔

مشیر تجارت رزاق داؤد کے مطابق امید ہے اضافی گرانٹ سے برآمدکنندگان کے لیکویڈیٹی بحران کے مسائل حل ہو جائیں گے اور برآمدات بڑھانے میں معاونت ملے گی۔ نان ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے ڈی ایل ٹی ایل سکیم پر بھی کام مکمل ہو چکا ہے۔

قبل ازیں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے عبدالرزاق داؤد کو لکھے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیلز ٹیکس کو کم اور ٹرن اوور ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد اور توانائی کو مسابقتی قیمتوں پر توسیع کے ذریعے ٹیکسٹائل سیکٹر کو خطے میں اپنی برآمدات میں اضافے کے لیے مدد کریں۔

یہ بھی پڑھیے:

10 ماہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 127 فیصد اضافہ

کورونا بحران ’میڈ ان پاکستان‘ پالیسی اپنانے کا سنہری موقع ہے: عبدالرزاق داؤد

اپٹما نے اپنے خط میں کہا تھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ملک کے تجارتی خسارے کو کم کرنے اور آئندہ مالی سال کے لیے 17.5 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

اسی طرح 8 جون 2020ء کو اپٹما سندھ- بلوچستان کے چئیرمین زاہد مظہر نے حکومت سے پانچ برآمداتی شعبوں کے لیے گیس کے نرخوں کو کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے 8 جون کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ “گیس کے نرخوں میں کمی کا اعلان عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کے مطابق کیا جانا چاہیے تاکہ کورونا وائرس کے معیشت پر منفی اثرات اور برآمدات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جاسکے”۔

مزیدبرآں 4 مئی 2020ء کو ٹیکسٹائل انڈسٹری مالکان نے سندھ ہائی کورٹ  کو آگاہ کیا تھا کہ کورونا وائرس کے سبب معاشی سرگرمیاں منسوخ اور لیکویڈیٹی بحران کے باعث وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کر پائیں گے۔

یہ مدِنظر رہے کہ 12 ٹیکسٹائل انڈسٹریز نے لاک ڈاؤن کے دوران سندھ حکومت نے ملازمین کی برطرفی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی تھی، سندھ حکومت نے مذکورہ ٹیکسٹائل انڈسٹریز کو اپنے ملازمین کو مکمل تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here