سینیٹ کمیٹی نے اسلام آباد میں گھروں پر لگژری ٹیکس لگانے کی مخالفت کردی

وفاقی حکومت شہر اقتدار کی اشرافیہ کے دو کنال سے زائد کے رہائشی مکانات اور فارم ہاؤسز پر لگژری ٹیکس لگانا چاہتی تھی

251

اسلام آباد : سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے اسلام آباد کے پُرتعیش گھروں پر لگژری ٹیکس کی مخالفت کردی

تفصیلات کے مطابق سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس، ریونیو اور معاشی امور کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں دو کنال سے زائد کے گھروں پر لگژری ٹیکس لگانے کے منصوبے کو مسترد کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

وفاقی حکومت کا اسلام آباد کی حدود میں قائم گھروں پر لگژری ٹیکس لگانے پر غور

پاما کا گاڑیوں کی خرید و فروخت پر ٹیکسز کی شرح میں کمی کا مطالبہ

 کورونا بحران، آسٹریلیا میں بیروزگاری 20 سال کی بلند ترین سطح پر 

اجلاس میں پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور اینٹی ڈمپبگ قانون میں ترامیم کا جائزہ بھی لیا گیا۔

کمیٹی اجلاس کے شرکا کو وزارت خزانہ کے حکام کا بتانا تھا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں دو کنال سے بڑے رہائشی گھروں اور فارم ہاؤسز پر ٹیکس لگانے پر غور کررہی ہے۔

مزید برآں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کا جائرہ لیتے ہوئے کمیٹی نے پلانٹ اور مشینری پر ٹیکس، آف شور ڈیجیٹل سروسز پر رائلٹی فیس، شپنگ پالیسی، رینٹل انکم، اور کیپیٹل گین ٹیکس کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

اس کے علاوہ اجلاس میں بلڈرز اور ڈیویلپرز کو دی جانے والی خصوصی مراعات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ایف بی آر حکام  کا کمیٹی کو بتانا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نے تعمیراتی صنعت کے لیے ایک خصوصی پیکج کا اعلان کیا ہے جس میں دلچسپی رکھنے والے بلڈرز اور ڈیویلپرز کے لیے31 دسمبر 2020  تک خود کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ رجسٹر کروانا ضروری ہے۔

مزید برآں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج میں دلچسپی رکھنے والے بلڈرز اور ڈیویلپرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے منظور شدہ منصوبہ جات کے ہمراہ ایف بی آر سے رابطہ کریں اور اپنے منصوبہ جات دسمبر 2022 سے پہلے تکمیل تک پہنچائیں۔

ایف بی آر کی جانب سے اس یقین دہانی پر کہ پیکج سے فائدہ اُٹھانے والے بلڈرز اور ڈیویلپرز سے ذریعہ آمدنی نہیں پوچجا جائے گا سینیٹ کی کمیٹی برائے فنانس، ریونیو اور معاشی امور نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ جات مکمل ہونے کے بعد نیب بلڈرز اور ڈیویلپرز سے آمدنی کے ذریعہ پوچھ سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here