ڈبلیو ایچ او کا کورونا کے مریضوں کی جان بچانے کیلئے ڈیکسامیتھاسون نامی سٹیرائیڈ کے ابتدائی نتائج کا خیر مقدم

195

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کے سنگین مریضوں کی جان بچانے کے حوالے سے ڈیکسامیتھاسون نامی سٹیرائیڈ کے ابتدائی نتائج کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بہت بڑی خبر قرا ر دیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ یہ آکسیجن یا وینٹی لیٹر کی ضرورت والے کورونا وائرس کے انتہائی تشویشناک مریضوں کی شرح اموات کو کم کرنے کے سلسلے میں پہلی دوا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہنوم گیبریاس نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے اور میں اس کے لیے حکومت برطانیہ، آکسفورڈ یونیورسٹی اور دیگر ہسپتالوں نیز برطانیہ کے ان مریضوں کو مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے زندگی بچانے والی اس سائنسی کامیابی میں اپنا تعاون دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ محققین نے تحقیق کے ابتدائی نتائج ڈبلیو ایچ او کو بتائے ہیں اور ہم اس کے مکمل تجزیہ کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں جس کے بعد ہم کووڈ 19 کے علاج کے لیے اس کے استعمال کے متعلق نئے رہنما خطوط جاری کریں گے۔

برطانیہ میں آکسفرڈ یونیورسٹی کے محققین نے 16 جون کو اعلان کیا تھا کہ کووڈ 19 کے سنگین مریضوں کو جو وینٹی لیٹر پر ہیں یا جنہیں آکسیجن دی جارہی ہے، ڈیکسامیتھاسون نامی سٹیرائیڈ دینے سے شرح اموات میں 35 فیصد تک کی کمی دیکھی گئی ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی ٹیم نے ڈیکسامیتھاسون سٹیرائیڈ کی خوراک کووڈ 19 کے 2000 سے زائد مریضوں کو دی، یہ دوا اِن مریضوں کو دی گئی جن کی حالت نازک تھی اور جو وینٹی لیٹر پر تھے۔

اس دوا کے استعمال سے ان مریضوں کی شرح اموات میں 40 سے 28 فیصد تک کمی آئی، ابتدائی نتائج سے یہ بھی پتہ چلا کہ ایسے مریض جو وینٹی لیٹر کے بجائے آکسیجن پر تھے کی شرح اموات میں 25 تا 20 فیصد کی کمی آئی۔

آکسفرڈ یونیورسٹی میں محققین کے ٹیم لیڈر اور وبائی امراض کے ماہر پروفیسر پیٹر ہوربی کا کہنا ہے کہ یہ نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں، یہ پہلی دوا ہے جس کے استعمال سے کووڈ 19 کے مریضوں کی شرح اموات میں کمی دیکھی گئی ہے۔

ڈیکسامیتھاسون ایک سستی اور آسانی سے دستیاب دوا ہے، اسے دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے فوراً استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے محققین ڈیکسامیتھا سون کو کووڈ 19 کے مریضوں پر استعمال کے نتائج کو بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ فی الحال کووڈ 19 کے علاج کے لیے اب تک کوئی تسلیم شدہ دوا یا ویکسین موجود نہیں ہے، دنیا کے ایک سو سے زیادہ ملکوں میں سائنسدان کووڈ 19 کے علاج کے لیے ویکسین کی تلاش پر تحقیق کررہے ہیں۔

دریں اثناء برطانیہ کے وزیر صحت میٹ ہینکاک کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں کو ڈیکسا میتھا سون دوا دینے کا سلسلہ جلد ہی شروع کر دیا جائے گا، حکام ملک کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے ساتھ اس دوا کے سلسلے میں کام کر رہے ہیں تاکہ کووڈ 19 کے علا ج کے لیے این ایچ ایس کے معیاری علاج میں اس دوا کو آج سے شامل کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 85 لاکھ کے لگ بھگ ہو چکی ہے جبکہ ساڑھے چار لاکھ افراد اس سے موت کا شکار ہوچکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here