گندم سپلائی پر پابندی، خیبر پختونخوا میں آٹا بحران کا خدشہ، فلور ملز مالکان کی احتجاج کی دھمکی

پنجاب میں 10 لاکھ ٹن سے زائد گندم کی دستیابی کے باوجود سپلائی پر دفعہ 144 کا نفاذ بلاجواز، پابندی کے پیچھے بیوروکریسی ہے، وزیر اعظم نوٹس لیں: آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن

71

پشاور: خیبرپختونخوا کے فلور ملز مالکان نے خبردار کیا ہے کہ اگر بین الصوبائی گندم کی سپلائی پر پابندی ختم نہ کی گئی تو جمعہ کے روز وہ اپنے ملازمین کے ساتھ صوبے بھر میں احتجاج شروع کر دیں گے۔

کے پی ملز مالکان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی اوپن مارکیٹ میں 10 لاکھ ٹن سے زائد گندم کی دستیابی کے باوجود گندم کی سپلائی پر دفعہ 144 کا نفاذ بلاجواز اور ناقابلِ فہم ہے۔

ملز مالکان  کا کہنا ہے کہ کے پی میں گندم کا فقدان ہے اور خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پنجاب پر انحصار کیا جاتا ہے، صوبے میں گندم کی سالانہ ضرورت 4.4 ملین ٹن ہوتی لیکن پیداوار محض 0.8 ملین ٹن ہوتی ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ پنجاب سے کے پی کو گندم کی شکل میں 3.6 ملین ٹن آٹا فراہم کیا جاتا ہے، کے پی ملز میں گندم کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور مالکان فلور ملز بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، صوبائی محکمہ خوراک گزشتہ چھ ماہ سے فلور ملز کو گندم فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

موسمیاتی تبدیلیوں کا وار، خیبر پختونخواہ میں گندم کی پیداوارمیں کمی، غذائی بحران کا خدشہ

گندم کی عدم دستیابی کے باعث خیبر پختونخوا میں آٹا بحران پھر سر اُٹھانے لگا

فلور ملرز نے کہا کہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1200 روپے ہوگئی ہے اور اگر گندم کی سپلائی پر پابندی نہیں اٹھائی گئی تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (اے پی ایف ایم اے) کے صوبائی چئیرمین محمد اقبال نے کہا ہے کہ پنجاب سے کے پی تک گندم سمگلنگ اور اس کی ترسیل پر پابندی صحیح اور حقیقی وجہ نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ “وفاقی حلقوں میں نفرت” ہے۔  محمد اقبال نے دعوٰی کیا کہ گندم سپلائی پر پابندی کے پیچھے پنجاب کی بیوروکریسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گندم کی ترسیل پر پابندی کا اطلاق کے پی میں فلور ملز کو بند کروانے کے لیے کیا گیا، فلور ملز کی بندش سے سینکڑوں ملازمین بےروزگار اور کئی خاندان متاثر ہونے کے علاوہ کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہوگی۔

محمد اقبال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فلور ملز بند ہونے سے اوپن مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور اس سے غریب عوام متاثر ہوں گے جو مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہوں گے اس لیے کے پی کی فلور ملز کو پنجاب کی اوپن مارکیٹ سے گندم خریدنے کی اجازت دی جائے۔

فلور ملز مالکان نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ کے پی محمود خان سے صورتحال پر نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here