سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت، امریکہ میں مسلسل آٹھویں روز مظاہرے، 40 شہروں میں کرفیو نافذ

28

واشنگٹن: امریکہ میں پولیس تحویل میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ملک میں سیاہ فام افراد کے ساتھ پولیس کے امتیازی رویے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے آٹھویں روز بھی جاری رہے اور ان مظاہروں کا دائرہ کئی شہروں تک پھیل چکا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ان مظاہروں میں پرتشدد واقعات کے بعد 40 شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے تاہم متعدد شہروں میں مظاہرین کرفیو کے باوجود باہر نکلے ہیں۔ اس کے علاوہ جارج فلائیڈ کے آبائی شہر ہیوسٹن میں آج ان کے گھر والوں کے ساتھ ایک پرامن مارچ کا اہتمام کیا گیا جس میں 20 ہزار شرکاء کی شرکت متوقع ہے۔

کرفیو کے باوجود متعدد شہروں میں مظاہرین باہر نکلے

امریکہ کے علاوہ یورپ کے متعدد ممالک جیسے کہ پیرس اور لندن میں بھی جارج فلائیڈ کی ہلاکت اور امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام افراد کے ساتھ نسلی امتیاز پر مبنی ظلم کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔

جارج کی گردن پر گھٹنا ٹیکنے والے پولیس افسر ڈریک شیوان پر غیر ارادی قتل کا الزام عائد، تین دیگر پولیس افسران بھی برطرف

25 مئی کو شہر مینیئیپولس میں جارج فلائیڈ کو گرفتار کرنے کے دوران پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت ہو گئی۔ اس واقعے اور مظاہروں کے بعد ریاست مینسوٹا نے اپنے محکمہِ پولیس کے خلاف سول رائٹس کے حوالے سے مقدمہ دائر کیا ہے۔

مظاہروں کے بعد ریاست مینسوٹا نے اپنے محکمہِ پولیس کے خلاف سول رائٹس کے حوالے سے مقدمہ دائر کیا ہے

گورنر ٹم والز نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس مقدمے کا مقصد کئی نسلوں سے جاری منظم نسل پرستی کو ختم کرنا ہے۔

امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں 1600 فوجیوں کو شہر کے مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ پینٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ فوجی تعیناتی کا مقصد سول حکام کے جاری آپریشنز میں ان کی مدد کرنا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں 1600 فوجیوں کو شہر کے مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے

جہاں کئی مقامات پر یہ مظاہرے پرتشدد ہو گئے ہیں، وہیں کچھ شہروں میں پولیس اور فوجی اہلکاروں نے مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا ہے اور ان کے ساتھ مارچ کیا اور احتجاج میں علامتی طور پر گھٹنے ٹیکے۔

کئی شہروں مظاہرے پرتشدد ہو گئے اس لیے فوج کو تعینات کیا گیا ہے

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کو سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل قرار دیا گیا ہے۔ ہینیپین کاؤنٹی میڈیکل اگزیمینر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جارج کا سانس رکنے کی وجہ سے انھیں دل کا دورہ پڑا تھا۔

یورپ کے کئی ممالک میں بھی جارج فلائیڈ کی ہلاکت اور امریکہ میں نسلی امتیاز پر مبنی ظلم کے خلاف مظاہرے کیے گئے

جارج کی گردن پر گھٹنا ٹیکنے والے پولیس افسر ڈریک شیوان پر غیر ارادی قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے اور وہ اگلے ہفتے عدالت میں پیش ہوں گے۔ ان کے ساتھ تین دیگر پولیس افسران کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔

لیکن پولیس تحویل میں جارج کی ہلاکت کے رد عمل میں شروع ہونے والے مظاہروں میں ایسے پر تشدد واقعات رونما ہوئے ہیں جن کی مثال کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔ گزشتہ سوموار کو میسوری کے شہر سینٹ لوئس میں جاری بدامنی کے دوران چار پولیس والوں کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here