‘شوگر کمیشن رپورٹ، ذمہ داران کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں گے’      

اصل مجرم عمران خان، اسد عمر اور بزدار ہیں: عباسی، کمیشن کی رپورٹ شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی کے خلاف چارج شیٹ ہے: شہزاد اکبر

418

لاہور: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ شہباز شریف اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف چارج شیٹ ہے، سلمان شہباز کی ایماء پر شاہد خاقان عباسی نے 20 ارب روپے کی سبسڈی دی، کمیشن کی سفارشات کے مطابق نہ صرف ریگولیٹری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے بلکہ کریمینل انوسٹی گیشن اور کیسز بھی آگے بڑھیں گے، ایسا میکنزم بنایا جائے گا تاکہ گٹھ جوڑ سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ نہ ڈالا جا سکے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ عید سے پہلے شوگر کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر لائی گئی جس میں حیران کن انکشافات کے ساتھ پریشان کن چیزیں بھی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماء رپورٹ پر قوم کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں، شاہد خاقان عباسی رپورٹ کے معاملے پر تواتر سے جھوٹ بول رہے ہیں، چینی کمیشن کے 12 سے 13 ٹی او آرز تھے، کمیشن کے ایک ٹی او آر میں تھا کہ قیمتیں کیوں بڑھیں۔ واضح لکھا ہے کہ جس وقت برآمد کی اجازت دی گئی اس وقت ملک میں چینی سرپلس تھی، کمیشن کہہ رہا ہے قیمتیں بڑھنے کی وجہ سٹے والوں کا شوگر ملز سے گٹھ جوڑ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے تحریری طور پر دو مرتبہ سندھ کے وزیراعلی کو طلب کیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے، وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی پیش ہو کر تمام سوالات کے جواب دئیے، شاہد خاقان عباسی کو بھی چارج شیٹ پر سوالات کا جواب دینا ہوگا، انہوں نے 24 گھنٹے کے نوٹس پر 20 ارب کی سبسڈی بطور وزیراعظم سلیمان شہباز کی ایماء پر دی۔

یہ بھی پڑھیے: 

چینی بحران رپورٹ میں ملز مالکان کی جانب سے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف

چینی سبسڈی، اسد عمر پر کس نے دبائو ڈالا؟

چینی کمیشن کی رپورٹ کسی کو پھنسانے کی کوشش؟ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے تحقیقات مسترد کر دیں

اس سے قبل سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت پر شوگر مافیا کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان، وزیر برائے منصوبندی اسد عمر اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سکینڈل کے اصل مجرم ہیں۔

شہزاد اکبر نے کمیشن رپورٹ کے پیرا 209 کا حوالہ دے کر کہا کہ شاہد خاقان عباسی سبسڈی کے حق میں کوئی جواب دے سکے اور نہ ہی کوئی دستاویزات پیش کیں۔ عباسی کے دور میں چینی وافر تھی لیکن برآمدکی بجائے اس پر سبسڈی دی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے ای سی سی کی منظوری کے بعد چینی کو برآمد کرنے کی اجازت دی تھی ناکہ سبسڈی کی۔

مشیر احتساب نے بتایا کہ العربیہ شوگر مل کے 25 فیصد شیئرز سلمان اور 25 فیصد حمزہ کے پاس ہیں، العربیہ شوگر مل سے متعلق دستاویزی ثبوت رپورٹ میں موجود ہیں، العربیہ شوگر مل کو کچی پرچی پر گنا بیچا جاتا تھا، العربیہ شوگر مل میں 1.3 ارب کا گنا نہیں دکھایا گیا اور 18-2017ء میں کسانوں کو سوا ارب روپے کی کم ادائیگی کی گئی، اس چینی پر ایک ٹکا ٹیکس بھی نہیں دیا گیا اور پھر یہی چینی بلیک مارکیٹ میں فروخت کی گئی۔

معاون خصوصی برائے احتساب کا کہنا تھا کہ کیسز منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی ذمہ داری ہے، کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں ریگولیٹری اقدامات کیے جائیں گے اور ایسا میکینزم بنائیں گے کہ چینی کی قیمت کم ہو اور نرخ برقرار رہے، کمیشن کی سفارشات کے مطابق کریمینل انوسٹی گیشن اورکیسز بھی آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کسی معاملے پر انکوائری کمیشن بنایا گیا اور کم مدت میں اس کی رپورٹ بنی اور عوام کے سامنے بھی پیش کی گئی، ماضی میں ایسا کون سا کمیشن بنا ہے جس میں وزراء پیش ہوئے ہوں۔ شاہد خاقان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کمیشن میں نالائق لوگ ہیں، لگتا ہے ملک میں صرف شاہد خاقان لائق ہیں جو اپنے مالک کے ساتھ وفادارہیں، اگر وہ کمیشن کی رپورٹ پڑھ لیتے تو یہ باتیں نہیں کرتے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here