وفاقی حکومت کا اسلام آباد کی حدود میں قائم گھروں پر لگژری ٹیکس لگانے پر غور

حکومتی فیصلے کا اطلاق شہر کے مختلف علاقوں پر ہوگا، فارم ہاؤسز اور رہائشی پراپرٹیوں پر محصول کی شرح مختلف ہوگی، رہائشی کیٹگری میں ٹیکس کا اطلاق دو کنال کے رقبے سے شروع جبکہ فارم ہاوس پر رقبہ چار کنال سے زائد ہونے کی صورت میں ہوگا۔

715

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی حدود میں قائم گھروں پر لگژری ٹیکس لگانے پر غور شروع کردیا۔

باخبر ذرائع کا بتانا تھا کہ حکومتی اقدام کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں پر ہوگا۔

زیرغور اقدام کے تحت رہائشی کیٹگری میں دو سے چار کنال کے گھر جن کا رقبہ 6 ہزارسکوائر فٹ ہوگا پر ایک لاکھ روپے جبکہ 5 کنال کے گھر جن کا رقبہ 8 ہزار سکوائر فٹ  سے زائد ہوگا پر 2 لاکھ روپے ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹویٹر کا ملازمین کو ہمیشہ گھروں سے کام کی اجازت دینے کا فیصلہ 

کینیڈا کی سب سے بڑی ائیرلائن کورونا سے متاثر، ہزاروں ملازمین نکالنے کا فیصلہ

2020ء کے دوران بین الاقوامی معیشت تین فیصد تک سکڑ جائے گی، آئی ایم ایف کا نیا تخمینہ

فارم ہاؤس کی کیٹگری ون میں چار کنال کے رقبے والی پراپرٹی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا تاہم پانچ سے سات ہزار سکوائر فٹ کے فارم ہاؤس پر فی سکوائر فٹ 25 روپے ٹیکس لگایا جائے گا۔

اسی طرح سات ہزار سے دس ہزار سکوائر فٹ رقبے کے فارم ہاؤس پر فی سکوائر فٹ 40 روپے جبکہ دس ہزار سکوائر فٹ سے زائد رقبے کے فارم ہاؤس پر فی سکوائر فٹ 50 روپے ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔

فارم ہاؤس کی کیٹگری ٹو میں بھی چار کنال کی پراپرٹی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا تاہم پانچ سے سات ہزار سکوائر فٹ کے فارم ہاؤس پر سالانہ  60 روپے فی سکوائر فٹ ٹیکس لگایا جائے گا۔

اسی طرح سات ہزار سے دس ہزار سکوائر فٹ کے رقبے والے فارم ہاؤس پر فی سکوائر فٹ 70 روپے جبکہ دس ہزار سکوائر فٹ سے زائد رقبے والے فارم ہاؤس پر 80 روپے فی سکوائر فٹ ٹیکس لگایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ان ٹیکسز کا نفاذ جائیداد کی بیوہ مالکان پر نہیں ہوگا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here