کووڈ 19 کی عالمگیر وبا بینکاری نظام کو کیسے بدل رہی ہے؟

420

اسلام آباد: کورونا وائرس (کوویڈ۔19) کی عالمی وباء کے بعد مالیات کی صنعت تیزی سے ڈیجیٹل بینکنگ پر منتقل ہوئی ہے، صارفین بھی اپنی بینکاری کی ضروریات کیلئے ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں، جب کوئی بڑا مسئلہ پیش آتا ہے تو اس سے نئے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

جے ایس بینک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور صدر باسر شمسی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کورونا کی حالیہ وباء کے باعث بینکاری کے ذرائع میں تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی ہیں، پاکستان میں روایتی بینکاری وباء سے خاصی متاثر ہوئی ہے کیونکہ وباء کے عدم پھیلاؤ کیلئے کئے گئے حفاظتی اقدامات کے تحت بینک برانچز میں جانا محفوظ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھیڑ سے بچنے اور خود حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ملک میں مالیات کی صنعت تیزی سے ڈیجیٹل ذرائع پر منتقل ہو رہی ہے تاکہ اپنے صارفین کو بااعتماد اور محفوظ خدمات کی فراہمی کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے:

اپنی تمام کمپنیاں ایک کمپنی کے تحت لانے کے بعد بابر علی کی IGI Holdings  اب بینکنگ سیکٹر میں قدم رکھنا چاہتی ہے

چھوٹے سے سرمایہ کار ادارے سے شروع ہونے والا میزان بینک اسلامی بینکنگ سیکٹر میں پہلے نمبر پر کیسے آیا؟

باسر شمسی نے کہا کہ کوویڈ۔19 کی وباء کے تناظر میں بینک موبائل اور انٹرنیٹ بینکنگ کی پیشکش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب صارفین بھی اپنے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے روایتی بینکنگ کی بجائے اپنی بینکاری کی ضروریات کی تکمیل کیلئے ڈیجیٹل ذرائع پر ہی انحصار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ وباء کے دوران جے ایس بینک کے ڈیجیٹل ذرائع سے بینکاری کی سہولیات سے مستفید ہونے کی شرح میں 30 تا 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ڈیجیٹل بینکاری کے مختلف پلیٹ فارمز پر صارفین کی رجسٹریشن میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کورونا بحران سے عہدہ برآ ہونے کیلئے مالیاتی پالیسی کے حوالہ سے ایک سوال پر باسر شمسی نے کہا کہ کورونا وائرس کوویڈ۔19 کے پاکستان میں مالیاتی اثرات کو زائل کرنے کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان انتہائی تیزی سے کام کر رہا ہے اور اس حوالہ سے مرتب کی گئی حکمت عملی کے تحت تین طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں صارفین کی مالیات تک محفوظ رسائی، بینکاری کی سہولیات کی دستیابی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔

اسی طرح صحت کے مراکز کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے علاوہ قرضوں کی وصولی میں تاخیر اور کم تر شرح سود پر تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے قرضوں کا اجراء وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران کے دوران بینکاری کی صنعت کے نئے رجحانات مستقبل میں پالیسی سازی کیلئے راہیں متعین کریں گے۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس سے نئے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں جن سے استفادہ کے ذریعے نہ صرف مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل کیلئے پالیسی بھی تیار کرنے میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here