فیس میں 41 فیصد اضافہ نا منظور، لمز فیصلہ واپس لے : وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود

ملک کے ممتاز تعلیمی ادارے کی جانب سے کڑے وقت میں طلبہ کو ریلیف دینے کے بجائے فیسوں میں ہوشربا اضافہ نا قابل قبول، سمجھ سے بالاتر ہے: وفاقی وزیر تعلیم

214

اسلام آباد : وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز ( لمز ) فیسوں میں 41 فیصد اضافے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ لمز ملک کا ایک ممتاز تعلیمی ادارہ ہے اور اس کڑے وقت میں اس کی جانب سے طلبہ کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے والدین پر اضافی فیسوں کا بوجھ ڈالنا نا قابل قبول ہے، یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ فیسوں میں اضافے کے حوالے سے پہلے ہی فارمولہ دے چکی ہے جس کے تحت سکولوں کو فیسوں میں سالانہ 5 سے 8 فیصد اضافے کی اجازت ہے مگر اس سے بھی انکار نہیں کہ یونیورسٹیوں کی ضروریات زیادہ ہونے کی وجہ سے انھیں فیسوں میں زیادہ اضافے کی ضرورت ہوتی ہے مگر 41 فیصد اضافہ سمجھ سے بالا تر ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

فیس بک کی مکیش امبانی کی کمپنی میں 5.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

کورونا کے بعد چین کی برآمدات بڑھنے سے تیل کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے

کورونا بحران کا فائدہ اُٹھا کر پاکستان کیسے سستی گیس درآمد کر سکتا ہے؟

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے لمز کی جانب سے فیسوں میں 41 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے خلاف سوشل میڈیا پر بھر پور آواز اُٹھائی جارہی ہے۔

جامعہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ فیسوں میں اضافے کا فیصلہ کورونا وائرس سے پہلے کیا گیا تھا جو کہ ہر سال ایک معمول کی بات ہے۔

یونیورسٹی کا مزید کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فیسوں میں اضافہ نا گزیر تھا۔

حالیہ اضافے سے پہلے یونیورسٹی کی جانب سے فیس 20 کریڈٹ آورز پر تقسیم کی جاتی تھی جس کے باعث سٹوڈنٹس کے کریڈٹ آورز میں کمی دیکھی جار رہی تھی لہٰذا اب جامعہ نے فیس 20 کے بجائے 12 کریڈٹ آورز پر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید برآں مہنگائی کے نام پر فی کریڈٹ آور فیس میں 13 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس طرح ایک سیمسٹر میں اوسطً 16 کریڈٹ آور لینے والےطالب علموں کی فیس میں 41 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

 اس اضافے سے پہلے 20 کریڈٹ آورز کی فیس 3 لاکھ  40 ہزار 200 روپے تھی جو کہ اب اتنے ہی کریڈٹ آورز کے لیے  4 لاکھ  82 ہزار ہوگئی ہے۔

اگرچہ یونیورسٹی فیسوں میں اضافے کو معمولی قرار دیتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کی ایک بڑی تعداد اس سے متاثر ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here