معاشی استحکام کیلئے قائم تھینک ٹینک کے اجلاس میں کورونا کے اقتصادی اثرات کم کرنے کیلئے 4 شعبوں کی نشاندہی

جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کے امکانات پر طویل گفت وشنیدکی اور مختلف پہلوؤں کاجائزہ لیا تاکہ آئندہ دو برسوں میں کنزیومرمصارف میں تیز تر اضافہ کو ممکن بنایاجاسکے

287
ADVISER TO THE PRIME MINISTER ON FINANCE AND REVENUE, DR. ABDUL HAFEEZ SHAIKH CHAIRING THE MEETING OF THE ECONOMIC COORDINATION COMMITTEE OF THE CABINET IN ISLAMABAD ON JANUARY 29, 2020.

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قومی معیشت کے استحکام کیلئے قائم تھنک ٹینک نے طویل غور و فکر اورتبادلہ خیال کے بعد ابھرتے ہوئے منظرنامہ میں 4  ایسے ایریاز کی نشاندہی کی ہے  جن میں مداخلت کر کے کورونا وائرس کی  وباء کے معاشی اثرات کو کم کیا جاسکے گا، ان میں زری امور و بینکنگ کا شعبہ، سماجی تحفظ کے پروگرام، چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کا کاروبار و بڑے کاروبار، اشیاء کی قیمتیں، صحت عامہ کے چیلنجز اورنجی شعبہ وغیرسرکاری تنظیموں کا کردار شامل ہیں۔

فورم کے شرکاء نے بڑے کاروبار اور برآمد کنندگان کیلئے بیل آوٹ پیکج کی ضرورت اوراہمیت کے علاوہ صارف اشیاء پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کے امکانات پر طویل گفت وشنیدکی اور مختلف پہلوؤں کاجائزہ لیا تاکہ آئندہ دوبرسوں میں کنزیومرمصارف میں تیز تر اضافہ کو ممکن بنایاجاسکے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے تشکیل کردہ تھینک ٹینک کے دوسرے اجلاس کی صدارت کی۔

وزیراعظم نے کوروناوائرس کی وباء کی وجہ سے  اقتصادی تنزلی اوروباء کے باعث متوقع خطرات  میں کمی کا جائزہ لینے کیلئے حال ہی میں یہ تھنک ٹینک قائم کیا تھا۔ اس فورم کو کورونا وائرس کی وباء سے متعلق طبی بحران اوراس سے جڑے اقتصادی مسائل پراجتماعی غوروفکر کا مینڈیٹ سونپا گیا ہے، فورم کے ممبران میں شوکت ترین، ڈاکٹرعشرت حسین، ڈاکٹراعجازنبی، سلطان علی الانہ، عارف حبیب، ڈاکٹروقارمسعود، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت  عبدالرزاق دائود اورسیکرٹری خزانہ نوید کامران شامل ہیں۔

مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے فورم کے شرکاء کو جی 20  سے قرضوں کے ریلیف کے حوالہ سے پیکج میں پیش رفت سے آگاہ کیا اورکہا کہ جی 20 کے تحت پاکستان کو1.8 ارب ڈالر تک کے قرضوں کی موخر ادائیگی میں ریلیف کا امکان ہے، اسی طرح آئی ایم ایف سے پاکستان کو 1.4 ارب ڈالر کی امداد پہلے سے موصول ہوگئی ہے۔

فورم کے شرکاء نے شرح سود میں مزیدکمی اوراس کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کومنتقل کرنے کی ضرورت واہمیت پرروشنی ڈالی، بات چیت کا ہدف ملکی معیشت کے جامع طلب اور رسد کومضبوط ومستحکم بنانے پر مرکوزرہا۔

فورم کے شرکاء نے بنکوں کیلئے مزید کیش (لیکویڈیٹی) کا تفصیل سے جائزہ لیا اوراس رائے کااظہارکیا کہ  موجودہ کسادبازاری جیسی صورتحال میں معیشت کو فروغ دینے کیلئے فعال اورمتحرل بنکنگ سیکٹر اشد ضروری ہے۔

اجلاس میں ترسیلات زرکی مزید حوصلہ افزائی، زرعی قرضوں، چھوٹے کسانوں اورکاشت کاروں سے فصلوں اورسبزیوں کی بروقت خریداری کا بھی جائزہ لیا گیا، فورم کے شرکاء نے بڑے کاروباراوربرآمدکنندگان کیلئے بیل آوٹ پیکج کی ضرورت اوراہمیت کے علاوہ صارف اشیاء پرجنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کے امکانات پرطویل گفت وشنیدکی اورمختلف پہلووں کاجائزہ لیاتاکہ آئندہ دوبرسوں میں کنزیومرمصارف میں تیزتراضافہ کو ممکن بنایاجاسکے۔

اجلاس میں سیکرٹری خزانہ نے سکڑتی ہوئی معیشت میں ایف بی آر کی جانب سے  محصولات کے زیادہ ہدف سے متعلق مسائل پرروشنی ڈالی، اس حوالہ سے فیصلہ تفصیلی مشاورت کے بعد ہوگا۔

اجلاس میں احساس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں میں نقد امداد کی تقسیم میں پیش رفت کابھی جائزہ لیاگیا، اجلاس کے شرکاء نے بے روزگارہونے والے افرادکے حوالہ سے مصدقہ معلومات اور معاشرے کے کمزورطبقات کو بروقت نقدامداد کی فراہمی پر زوردیا۔

تھنک ٹینک میں شامل ماہرین اقتصادیات نے سرکاری شعبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ایسے منصوبوں کو شامل  کرنے کی ضرورت پرزوردیا جس میں مزدوروں اورمحنت کشوں کیلئے زیادہ سے زیادہ ترغیبات اور  زرعی شعبے کی فوری ترقی کیلئے فعال اور موثر قرضوں کا اجراء ممکن ہوسکے۔

اجلاس کے شرکاء نے سرکاری اورنجی شعبہ کے باہمی اشتراک کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ فورم میں شامل ماہرین نے تیل کی قیمتوں میں کمی کے تناظر میں پیشگی معاہدوں، بجلی کے شعبہ کے قرضوں کی سکروٹنی  اور ملکی وغیرملکی قرضوں کی ری شیڈولنگ کے ذریعہ مالیاتی سپیس کی ضرورت پرزوردیا۔

اجلاس میں ہائوسنگ کے شعبہ کیلئے قرضوں کے پروگرام کا جائزہ لیتے ہوئے شرکاء نے صارفین کوسہولیات کی فراہمی سمیت متعدد تجاویز پر غورکیا، اس کے ساتھ ساتھ مارگیج کی بنیاد پرقرضوں کی اہمیت کا بھی جائزہ لیاگیا۔

ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے مناسب پالیسی مباحثہ کے ضمن میں اہم موضوعات کااحاطہ کرتے ہوئے شرکاء کوبتایا کہ فورم  کے کام میں تیزی لانے کیلئے  آئندہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی شرکت متوقع ہے۔ اس فورم کے قیام کامقصد وزارت کودانشورانہ اور پیشہ وارانہ مشاورت کی فراہمی ہے تاکہ ملکی معیشت کیلئے عملی اندازمیں ترغیبات ومراعات کو ممکن بنایا جاسکے۔

مشیربرائے خزانہ نے فیصلہ کیا کہ ملکی معیشت کے حوالہ سے مختصر، درمیانی اورطویل المعیاد بنیادوں اورترجیحات کے مطابق مداخلت کی پالیسی اپنائی جائیگی۔ پالیسی سازی کیلئے بین الاقوامی تھینک ٹینکس سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here