دو وزارتوں میں تنائو کے بعد الیکٹرک وہیکلز پالیسی پر نظرثانی کی منظوری

292

اسلام آباد: خصوصی کمیٹی برائے الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ہمراہ آٹو انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کے لیے منظور شدہ الیکٹرک وہیکلز پالیسی پر نظر ثانی کی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کی زیر صدارت الیکٹرک وہیکل پالیسی سے متعلق اجلاس ہوا جس میں وزارت صنعت و پیداوار، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے ملک میں نئی الیکٹرک وہیکلز پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔

وزیر برائے سائنس ایند ٹیکنالوجی، وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم اور مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے اجلاس میں شرکت کی۔

اس سے قبل آٹو سیکٹر نے نئی پالیسی سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جسے ابتدائی طورپر وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے مرتب کیا گیا اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے منظوری دی گئی تھی۔

اجلاس کے دوران وزارتِ صنعت و پیداوار کے اہلکاروں نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے ہمراہ نئی متعارف کرائی جانے والی پالیسی کے مضمرات کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا۔

متعلقہ افسران نے وزیر ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر کو آٹو پالیسی سے متعلق قائل کرنے کی کوشش کی کہ آٹو صنعت کے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں کمیٹی نے بتایا کہ انڈسٹری میں آٹوموٹو ڈویلپمنٹ پالیسی 2016-21 کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مذکورہ سیکٹر میں سرمایہ کاری ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان میں گاڑیوں کی مینو فیکچرنگ کیلئے قومی پالیسی کی تشکیل پر دو وزارتوں میں رسہ کشی

ای وی پالیسی، الیکٹرک وہیکلز انقلاب کی پہلی بوند ہیں: ملک امین

رواں مالی سال کے آٹھ ماہ میں ایک ہزار سی سی کاروں کی پیداوار اور فروخت میں واضح کمی

متعلقہ افسر نے کہا کہ آٹو سیکٹر میں موجودہ پالیسیوں کو فعال رکھنے کی اجازت دینی ہو گی کیونکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے پالیسی برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای وی پالیسی ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔ “اس کی کامیابی مقامی پیداوار اور مینوفیکچرنگ پر انحصار کرنے کے علاوہ حفاظتی سٹینڈرڈز کو یقینی بنانے پر ہو گا”۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری لانے کے لیے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ ایک عالمگیر ای وی پالیسی بنانا ہو گی۔

واضح رہےاس سے قبل وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ کو ایک اجلاس کے دوران آگاہ کیا تھا کہ ان کی وزارت نے پاکستان سٹینڈرز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے ذریعے گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کے حوالے سے قومی سطح کی پالیسی متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس ہوئے تو اس پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔

اس پر اعتراض کرتے ہوئے مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا تھا کہ آٹو انڈسٹری کو نئے قومی سطح کے معیار متعارف کرانے پر شدید تحفظات ہیں۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے گاڑیوں کے قومی سطح کے معیار کی پالیسی بنانے کے اقدام کی حمایت کی تھی۔

ذرائع نے مزید کہا تھا کہ ملک اسلم نے مبینہ طور پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی حمایت کی کیونکہ اس سے قبل رزاق داؤد نے وزارتِ ماحولیاتی آلودگی کی الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی تیار کرنے کی مخالفت کی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here