عوامی رابطوں میں 80 فیصد کمی لا کر کورونا وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے، طبی ماہرین

163

ٹوکیو: جاپان میں طبی ماہرین کے ایک گروپ نے کہا  ہے کہ دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے  مہلک کورونا وائرس  کو براہ راست باہمی رابطوں میں 80 فیصد تک کمی لا کر روکا جا سکتا ہے جس کے لئے تمام ممالک کے  حکام کو فوری طور پر ضروری اقدامات کرنے چاہیں۔

جاپان کی معروف ہوکّائیدو یونیورسٹی کے پروفیسر اورکلسٹر انفیکشنز کے بارے میں حکومتی ٹاسک فورس کے رکن کی قیادت میں طبی گروپ نے اس حوالہ سے کورونا کے پہلے مریض کی تصدیق کے بعد 30 روز میں متاثرہ افراد کی یومیہ تعداد کا اندازہ 3 مختلف صورتحال میں لگایا اور بتایا کہ پہلی صورت میں ممکنہ اضافے کا اندازہ ایسے حالات کے تناظر میں ہے جب کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: 

تمباکو کے پودے سے کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کے تجربات جاری

کورونا کے گرداب سے نکلتے چین میں سرمایہ کار دوبارہ متحرک

چینی کمپنیوں نے پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے لیے 35 ٹن میڈیکل سامان عطیہ کیا

دوسری صورت میں اضافے کا اندازہ اس صورت میں ہے جب عوام کو نرمی سے گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایات دی گئی ہوں اور براہ راست باہمی رابطوں میں 20 فیصد تک کمی آئی ہو۔ اور تیسری صورت میں عوام کو سختی سے باہر نکلنے سے گریز کی پابندیوں کے بعد باہمی رابطے میں 80 فیصد تک کمی آئی ہو۔

طبی ماہرین کے مطابق کسی بھی قسم کے اقدامات کی عدم موجودگی کی صورت میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 6 ہزار 1 سو افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔باہمی رابطے میں 20 فیصد کمی کی صورت میں متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار 9 سو تک ہو سکتی ہےاور باہمی رابطے میں 80 فیصد کمی کی صورت میں متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 1 ہزار 2 سو ہو گی۔

گروپ کا کہنا ہے کہ پہلی دو صورتوں میں انفیکشنز کی تعداد انتہائی تیزی سے بڑھ سکتی ہے جبکہ تیسری صورت ملک کو وبا ء کے خاتمے کے قریب لے جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹوکیو آئندہ تقریباً 10 دنوں سے 2 ہفتے میں تیزی سے وبا کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اور وبا ء کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہ انتہائی اہم وقت ہے۔ نشی اْورا کا کہنا ہے کہ باہمی رابطوں میں 80 فیصد تک کمی لانے کے لیے یورپ جیسی سخت پابندیوں کی ضرورت ہو گی اور مرکزی و مقامی حکومتوں کو فوراً اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

پروفیسر نشی اْورا نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ افراتفری پیدا کیے بغیر اپنی استطاعت کے مطابق اقدامات کریں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here