کورونا وائرس، امریکہ میں گھروں سے کام کرنے والے ملازمین کو ہیکرز کے حملوں کا سامنا

158

واشنگٹن: امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سرکاری دفاتر اور نجی ادارے بند ہونے کے بعد بڑی تعداد میں امریکی ملازمین گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں جنہیں بڑی تعداد میں سائبرحملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکی سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے مطابق گھروں میں کام کرنے والے ملازمین سے نے ذاتی معلومات لینا شروع کردیں ہیں، سائبر حملہ آور ملازمین کو جعلی ای میلز کے ذریعے کام میں سہولت کی پیشکش، کمپیوٹر سسٹم اوراکاؤنٹس کے پاس ورڈز، کریڈٹ کارڈ سمیت دیگر تفصیلات حاصل کر کے ملازمین کو پریشان کرتے ہیں۔

سکیورٹی فرم پروف پوائنٹ کی ہیڈ آف تھریٹ ریسرچ شیروڈ ڈی گریپو نے بتایا کہ ایسا ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ہیکرز کی طرف سے ملازمین کی ذاتی معلومات اور ان کے پاس ورڈز حاصل کرنے کی ہزاروں کوششیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی وبا نے سائبر حملوں کے لئے مفید ماحول تخلیق کیا ہے اور جعلسازوں کو شہریوں کی حساس معلومات چوری کرنے کے لئے آسان راستہ مل گیا ہے جبکہ لاکھوں افراد بے خبری اور کم محفوظ حالات میں کام کر رہے ہیں اور نئی ادارہ جاتی پالیسیوں سے آگاہی کے لئے ان کی بے چینی کا ہیکرز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ڈی گریپو نے کہا کہ اپنے گھر پر کام کے دوران آپ کو وہ تحفظ نہیں ہوتا جو دفتر میں مل سکتا ہے، فیملی کا کوئی ممبر سکیورٹی کنٹرول کے تقاضوں کو نہ سمجھتے ہوئے ہیکرز کو معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ حملہ آور اس طرح کے پیغام بھیج رہے ہیں کہ ‘میں قرنطینہ میں ہوں اور آپ کو میرے لئے کچھ خریدنے کی ضرورت ہے،’ یا ‘مجھے آپ کو فنڈز کی منتقلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔

سیکیورٹی اینڈ پرائیویسی ٹریننگ فرم میڈیا پی آر او کے ٹام پیینڈرگاسٹ کا کہنا ہے کہ شہری کام کا مناسب طریقہ نہ اپنانے پرمشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہیکرز ایک طرف خوفناک ہتھکنڈے اختیارکر رہے ہیں تو دوسری طرف کورونا وائرس کا شکار افراد کے لئے فنڈنگ کے نام پر جھوٹی ہمدردیاں بھی جتلا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمہوریہ چیک کے ایک بڑے ہسپتال کو ہیکر رینسم ویئر نے نشانہ بنایا ہے۔سیکیورٹی فرم بٹ ڈیفنڈر کے فلپ ٹروٹا نے بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ کورونا وائرس سے متعلق عوامی خوف سائبر کریمنلز کے لئے منافع بخش ثابت ہوا ہے اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق ادارے سائبر سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے ہیکر حملوں کا آسان نشانہ ہیں۔

سائبر حملوں کے حوالے سے فرانسیسی پبلک پرائیویٹ سائبرسیکیوریٹی الائنس نے اس ہفتے کاروباری اداروں کو متنبہ کیا کہ وہ ایسی فون کالز سے ہوشیار رہیں جن میں ان سے مطلوبہ آرڈرز، بینک ٹرانسفر اور مالی کھاتوں سے متعلق تفصیلات پوچھی جائیں۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے رواں ماہ ایک الرٹ جاری کیا تھا۔ ہوائی کے اٹارنی جنرل کلیئر کونرز نے شہریوں کو جعلی ای میلز پر نظر رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہیکرز وائرس کے علاج کے حوالے سے ویکسین سمیت دیگر جعلی طبی مصنوعات بھی پیش کرسکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here