فوجی فرٹیلائزر نے یوریا کھاد کی قیمت میں مزید 75  روپے فی بوری کمی کر دی

143

اسلام آباد: فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) کی جانب سے یوریا کے 50 کلو کے تھیلے میں تین سو روپے کلو کمی کے ایک ماہ کے بعد کمپنی نے فی تھیلہ مزید 75 روپے کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گیس انفرسٹرکچر  ڈویلپمنٹ  سیس (جی آئی ڈی سی) ختم ہونے کا فائدہ صارفین تک پہنچایا جا سکے۔

اگرچہ ایف ایف سی نے 50 کلو یوریا کے تھیلے میں 400 روپے کمی کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کو ختم کیا جانا تھا، لیکن کمپنی نے قیمتوں میں محض تین سو روپے کی کمی کی۔ تاہم، مارکیٹ میں دیگر کمپنیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جی آئی ڈی سی ختم کا مکمل فائدہ صارفین کو منتقل کیا ہے۔

مزید پڑھیں: جنوری میں یوریا کی فروخت میں 67 فیصد کمی

ذرائع کے مطابق، ایف ایف سی نے متعلقہ وزارتوں کے ساتھ اجلاس کے بعد یوریا کی قیمتوں میں مزید کمی کی ہے۔

دریں اثنا، ایف ایف سی کے حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ کمپنی نے 75 روپے فی یوریا بیگ کم کرکے کسانوں سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے، کمپنی نے قبل ازیں یوریا کے بیگ میں 300 روپے کمی کی تھی (جس کا اطلاق 28 جنوری سے ہوا)  تاکہ جی آئی ڈی سی کے ختم ہونے سے حاصل ہونے والا فائدہ مکمل طور پر کاشت کار کمیونٹی کو فراہم کیا جائے۔ ملک میں فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کمٹمنٹ پر عمل کرنے کے لیے ایف ایف سی نے یوریا بیگ کی قیمت میں مزید 75 روپے کمی کی ہے، یوں فی بیگ مجموعی کمی 375 روپے ہو گئی ہے۔

بیان کے مطابق، یہ فیصلہ کمپنی کی کمٹمنٹ اور کوشوں کو درست طور پر ظاہر کرتا ہے تاکہ حکومت کے اس مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوا جا سکے کہ کسانوں کو ناگریز زرعی فائدہ پہنچایا جائے اور ملک میں زرعی معیشت کو بہتر کیا جائے۔

مزید پڑھیں: ایف ایف سی نے یوریا کی قیمتوں میں فی بوری تین سو روپے کی کمی کر دی

یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اینگرو فرٹیلائزر نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ اس نے جی آئی ڈی سی کی قیمتوں میں فرق کا فائدہ 50 کلو بیگ کی قیمتوں میں 160 روپے کمی کر کے صارفین تک مکمل طور پر پہنچا دیا ہے (جو یکم فروری سے لاگو ہوا)۔

جی آئی ڈی سی کو ختم کرنے کے اثرات مختلف فرٹیلائزر مینوفیکچرر پر مختلف ہوئے جیسا کہ اینگر فرٹیلائزر اور فاطمہ فرٹیلائزر نے دعویٰ کیا کہ سیس ان کے پلانٹس پر لاگو نہیں ہوتا کیوں کہ وہ 2001 کی پالیسی کے تحت قائم ہوئے۔ اینگرو نے یہ موقف اختیار کیا کہ جی آئی ڈی سی ان کے صفر اعشاریہ  63 ٹن کے پلانٹ پر لاگو ہوتا تھا اور قیمتوں میں کمی کسانوں کے لیے حالیہ ربیع کے سیزن میں مددگار ثابت ہو گی۔

کسانوں کی پریشانی کا حل

مزیدبرآں، وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی و ریسرچ مخدوم خسرو بختیار نے پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محدود کھوکھر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کسانوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں آگاہ ہے اور انہیں جلد از جلد حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ایگریکلچر سیکٹر کی ڈویلپمنٹ اور ماڈرنائزیشن حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کا اظہار مختلف زرعی پروگرام شروع کر کے کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا، حکومت کی جانب سے جی آئی ڈی سی ختم کیے جانے کے باعث فرٹیلائزر کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، کسانوں تک یوریا کی بلاتعطل فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here