ملک کے سب سے بڑے اسلامی بنک نے 2019 میں غیرمعمولی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس کا اظہار اس کی حال ہی میں جاری کی گئی معاشی سٹیٹ منٹس سے ہوتا ہے۔ یہ اگرچہ ڈیپازٹس کے اعتبار سے ملک کا چھٹا بڑا بنک ہے تاہم، اس نے محض 2019 میں اپنے ڈیپازٹس میں 19 فی صد اضافہ دیکھا ہے۔ یہ اضافہ انڈسٹری کی شرح سے کہیں زیادہ ہے جو 10 فی صد رہی ہے۔

میزان بنک کے فی شیئر پر آمدن 12.12 روپے ہوئی جو سالانہ بنیادوں پر 74 فی صد اضافہ ہے  جب کہ 2019 میں ہی ریٹرن آن ایکویٹی 31 فی صد تک پہنچ گیا۔ 2019 کی چوتھی سہ ماہی میں اس کا منافع بڑھ کر 4.7 ارب روپے یا 86 فی صد ہو گیا۔ دریں اثنا، نیٹ انٹرسٹ انکم (ایک بنک اپنے صارف سے قرض پر جو سود لیتا ہے اور ڈیپازیٹر کو جس شرح پر قرض دیتا ہے، وہ نیٹ انٹرسٹ انکم کہلاتی ہے) چوتھی سہ ماہی میں بڑھ کر 46 فی صد ہو گئی جب کہ فیسوں کی مد میں ہونے والی آمدن میں 95 فی صد تک اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: میزان بنک کے منافع میں 73 فی صد اضافہ

اس غیر معمولی بہتر آمدن کا مطلب دراصل یہ ہے کہ ایک سہ ماہی کے دوران آپریٹنگ کاسٹ میں 30 فی صد اضافے کے باوجود اور منفی قرضہ جات کی ایڈجسٹمنٹ سے قبل بنک اپنا مجموعی ریونیو درحقیقت 43 فی صد تک لانے میں کامیاب رہا۔

میزان بنک ان پاکستانی بنکوں میں شامل ہے جنہوں نے 2019 میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جیسا کہ اس کی شرح سود غیر معمولی رہی، بالخصوص سال کے دوسرے نصف میں یہ مظہر نمایاں رہا جس کے باعث بنکنگ سیکٹر کو مجموعی طور پر منافع ہوا۔

اگرچہ 2020 کے دوسرے نصف کے لیے شرح سود میں کمی تجویز کی گئی ہے لیکن بنک پرامید ہے کہ ریٹرن آن ایکویٹی 20 سے 25 فی صد کے درمیان رہنے کی امید ہے۔ تاہم اس کے باوجود بنک محتاط رہتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد فیصل بنک کے منافع میں 24 فی صد اضافہ

سکیورٹیز بروکریج فرم جے ایس گلوبل سے منسلک ریسرچ اینالسٹ آمرین سورانی 17 فروری کو اپنے صارفین کے نام ایک نوٹ میں لکھتی ہیں، 2019 کے کیلنڈر ایئر کے دوران سالانہ بنیادوں پر ایڈوانسز میں چار فی صد کمی آئی، اور ایڈوانسز ٹو ڈیپازٹ کی شرح 53 فی صد ہو گئی (یہ وہ شرح ہوتی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بنک اپنے تمام قرض ڈیپازٹ سے دے رہا ہے) جو 2015 کے بعد کم ترین شرح تھی۔ یہ کمی ایک سٹریٹجک فیصلہ تھا جیسا کہ بنک موجودہ معاشی سست روی کے دوران ناصرف محتاط رہنا چاہتا تھا بلکہ اپنے اثاثوں کے لیے بھی نقصان کا باعث نہیں بننا چاہتا تھا۔

بنک نے اپنی محتاط پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے 2019 میں جنرل پرویژنز کے طور پر 1.5 ارب روپے رکھے جن میں سے اکثریت چوتھی سہ ماہی میں بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ مینجمنٹ 2019 کی طرح 2020 میں بھی ایڈوانس ٹو ڈیپازٹ ریشیو برقرار رکھنا چاہ رہی ہے۔ بنک 2020 میں ڈیپازٹس کو مزید بڑھانے کی امید رکھتا ہے، اور ایک ٹریلین کے ہدف کو پار کرنا چاہتا ہے ( یا 13 فی صد کی شرح)۔

بنک کی پہلے سے ہی 760 برانچز ہیں جن میں سے 100 محض اس سال کھلی ہیں۔ رواں برس اس کا مزید 150 پرانچیں کھولنے کا منصوبہ ہے۔ یہ ملک کا سب بڑا اسلامی بنک ہے، یہ ایک قابلِ رشک پوزیشن ہے بالخصوص آپ جب اسلامک بنکنگ کی مارکیٹ کے پرکشش ہونے کا جائزہ لیتے ہیں۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق، 2003 سے  2018 کے دوران 15 برسوں میں پاکستان کے روایتی بنکنگ سسٹم میں ڈیپازٹ 20.2 فی صد سالانہ کی شرح سے بڑھے ہیں اور یہ 1.8 ٹریلین سے بڑھ کر 13.4 ٹریلین ہو گئے ہیں۔

پرافٹ کی جانب سے بنکوں کی مالیاتی سٹیٹ منٹس اور سٹیٹ بنک کے جائزے کے بعد کیے گئے تجزیے کے مطابق، یہ اعداد و شمار متاثر کن ہیں تاہم اگر آپ اسلامک بنکنگ سیکٹر کے ترقی کرنے کی شرح کو مدنظر رکھیں تو اس عرصہ کے دوران اسلامی بنکوں اور روایتی بنکوں میں اسلامی  بنکنگ کے شعبہ جات کے ڈیپازٹ میں اوسطاً سالانہ 65.1 فی صد اضافہ ہوا ہے  جن کا حجم 14.4 ارب روپے سے بڑھ کر 2.2 ٹریلین ہو گیا ہے۔ اس عرصہ کے دوران افراط زر میں اوسطاً 8.8 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

یہ فہم حاصل کرنے کے لیے کہ شرح نمو میں یہ فرق کس حد تک تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے تو یہ حقیقت پیش نظر رکھیں: روایتی بنکنگ سسٹم میں ڈیپازٹ 15 برس قبل کی نسبت 6.3 گنا بڑھا ہے۔ پاکستان میں اسلامک بنکنگ ڈیپازٹس میں اسی عرصہ کے دوران 151 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

2003 میں مجموعی بنکنگ ڈیپازٹس کا محض 0.8 فی صد ہی اسلامک بنکنگ پر مشتمل تھا۔ 2018 کے اختتام پر یہ مجموعی ڈیپازٹ کے 16.2 فی صد پر مشتمل تھا۔

یہ ترقی بالخصوص روایتی بنکوں کے لیے اس لیے کشش کا باعث بنی ہے کیوں کہ اس سے ان کے کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔

گلوبل ایجنسی موڈیز انوسٹر سروسز کے دو تجزیہ کار ساوینا جوزف اور کانسٹین ٹینس کیپریوز 19 ستمبر 2019 کو جمعرات کو صارفین کے نام اپنے نوٹ میں لکھتے ہیں، اسلامک بنکوں کے صارفین کا نمایاں حصہ آبادی کے اس طبقے سے تعلق رکھتا ہے جن کا اس سے قبل کوئی بنک اکائونٹ نہیں ہوتا جس کے باعث بنکوں کے لیے ریونیو کے نئے ذرائع پیدا ہو جاتے ہیں۔

مختصراً، پاکستان میں کسی بھی بنک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اسلامی نہ ہو۔ عالمی بنک کے فنڈیکس اعداد و شمار میں یہ اندازہ مرتب کیا گیا ہے کہ 2017 تک 79 فی صد پاکستانیوں کے بنک اکائونٹ نہیں تھے۔ اور یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ پاکستان کی 97 فی صد آبادی مسلمان ہے، آبادی کا ایک نمایاں تناسب اپنی معاشی ضروریات پورا کرنے کے لیے اسلامی بنکنگ کے نظام کو استعمال کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: چھوٹے سے سرمایہ کار ادارے سے شروع ہونے والا میزان بینک اسلامی بینکنگ سیکٹر میں پہلے نمبر پر کیسے آیا؟

اگرچہ قطعیت کے ساتھ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستانیوں کا وہ کیا تناسب ہے جو روایتی بنکنگ پر اسلامک بنکنگ کو ترجیح دیتا ہے؟ اعداد و شمار سے صارفین کی کچھ ترجیحات ظاہر ہوتی ہیں۔ پرافٹ کی جانب سے سٹیٹ بنک آف پاکستان اور بنکوں کے معاشی اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق، 2018 میں پاکستان میں بنکاری نظام کی تقسیم کچھ یوں ہوئی کہ 30.3 فی صد پیسہ اسلامی بنکنگ کے نظام میں گیا جب کہ 69.7 فی صد پیسہ روایتی بنکوں میں گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میزان بنک پاکستان میں اسلامک بنکنگ کے شعبہ پر غلبہ پانے کے قابل ہو چکا ہے اور ظاہر ہے، وہ ملک کے سب سے بڑے اسلامک بنک کی حیثیت نہیں گنوائے گا جس کا مارکیٹ شیئر 36.2 فی صد ہے اور یہ ہدف محض ایک دہائی کے دوران حاصل کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here