ٹیرف کا تنازع، ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا برآمدات روکنے پر غور

40
ٹیکسٹائل ایکسپورٹس

لاہور: ٹیکسٹائل انڈسٹری کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان مسابقتی قیمت سات اعشاریہ پانچ سینٹ میں بجلی فراہم کرنے کی اپنی کمٹمنٹ پر پورا نہیں اترتے تو پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر سنجیدگی کے ساتھ ایکسپورٹ کا کاروبار چھوڑنے پر غور کر رہا ہے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے گروپ لیڈر  گوہر اعجاز نے اس رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا، ٹیکسٹائل سیکٹر توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے غیرپیداواری پالیسی کی توثیق نہیں کر سکتا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت وزیراعظم عمران خان کی کمٹمنٹ کو پورا نہیں کرتی تو ایکسپورٹ انڈسٹری کی بقاء ممکن نہیں رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا، ٹیکسٹائل ملرز کے لیے ان حالات میں اپنی برآمدات بڑھانا ممکن نہیں جس کی وجہ توانائی کے شعبہ کی نااہلیت اور کرپشن ہے۔

اپٹما کے ایک سینئر رُکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر اس خوف کا اظہار بھی کیا کہ اگر پاور ڈویژن کے غلط مشورے پر ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے بجلی کا ٹیرف سات اعشاریہ پانچ سینٹ (تمام ٹیکسوں اور چارجز کے ساتھ) کلو واٹ فی گھنٹہ کرنے کی خبر درست نہ ہوئی تو انڈسٹری ختم ہونا شروع ہو جائے گا، بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیلے گی اور ایکسپورٹس میں تیزی سے کمی آئے گی اور معیشت کا مستقل تاریک ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: برآمدی شعبے کیلئے بجلی کے نرخوں میں اضافہ، لاہور ہائیکورٹ نے اپٹما کی درخواست پر سماعت 3 فروری تک ملتوی کردی

انہوں نے آگاہ کیا کہ سرچارجز پچھلی تاریخوں سے لاگو کیے جا رہے ہیں کیوں کہ پاور ڈویژن نے تقسیم کار کمپنیوں (ڈی آئی ایس سی او) کو 13 جنوری کو تحریر کیے گئے خط میں کہا تھا، چارجز پچھلی تاریخ یعنی جنوری 2019 سے وصول کیے جائیں۔

متبادل توانائی

انڈسٹری کے ایک اور سینئر لیڈر نے اس رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر جزوی طور پر توانائی کے متبادل ذرائع شمسی اورمحفوظ شدہ توانائی (گیس و فیول) سے پیدا ہونے والی بجلی کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، شمسی توانائی پر تین سینٹ کلوواٹ فی گھنٹہ لاگت آتی ہے جس کے باعث یہ کم قیمت ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، اس کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے کیوں کہ محفوظ شدہ توانائی سٹوریج کرنے پر بہت زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔

اپٹما پنجاب کے سربراہ عادل بشیر نے کہا کہ وہ پہلے ہی اپنی انڈسٹری میں شمسی توانائی کا نظام نصب کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، یہ کم قیمت ہے لیکن آپ اسے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کرنے کے لیے بنیادی ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا، ٹیکسٹائل سیکٹر 100 فی صد شمسی توانائی پر منتقل نہیں ہو سکتا لیکن شمسی توانائی محدود پیمانے  جیسا کہ 10 فی صد تک استعمال ہو سکتی ہے۔

اپٹما پنجاب کے وائس چیئرمین نے کہا، مثال کے طور پر اگر میرا بجلی کا لوڈ پانچ میگاواٹ ہے، میں ایک میگاواٹ بجلی شمسی توانائی سے حاصل کرتا ہوں کیوں کہ شمسی توانائی پیدا کرنے کے لیے بہت زیادہ جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا، اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور میں پہلے ہی واپڈا کا کنکشن، ڈیزل جنریٹرز، گیس جنریٹرز، ایچ ایف او جنریٹرز وغیرہ خریدنے پر سرمایہ کاری کرچکا ہوں۔

اپٹما کے وائس چیئرمین نے مزید کہا، اگر ہم نے اضافی سرمایہ کاری اپنی فیکٹریوں کی مشینری پر کی ہوتی تو پاکستان کی ایکسپورٹس دگنا ہو گئی ہوتیں۔

  مزید پڑھیں: 80 ارب روپے مالیت کے بقایا جات کی وصولی کا کوئی جواز نہیں، ایکسپورٹرز کی قومی اسمبلی کی کمیٹی کے روبرو شکایت

ان کا یہ خیال بھی تھا کہ چین اور دیگر ملکوں میں حکومت دروازے پر کم قیمت توانائی فراہم کرتی ہے اور کسی کو بھی توانائی کے وسائل پر ایک روپے کی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

توانائی کی مینجمنٹ

واپڈا کے سابق ممبر پاور سید تنظیم حسین نقوی نے اس رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملکی انڈسٹری توانائی کی قیمتوں میں بارہا اضافے کے باعث نہایت مشکل حالات سے دوچار ہے جس کی وجہ پاور سیکٹر کی بدانتظامی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، یہ حالات ناصرف صنعت بلکہ عام صارفین کے لیے بھی پریشان کن ہیں۔

انہوں نے کہا، اگر ٹیکسٹائل سیکٹر محض آٹھ گھنٹوں کے لیے بھی شمسی توانائی کا استعمال کرنا شروع کر دے تو ان کی توانائی پر اٹھنے والی اوسط لاگت چھ سینٹ کلو واٹ فی گھنٹہ ہو جائے گی۔

پاور سیکٹر کے ماہر نے مزید کہا کہ اگر حکومت لاہور، جامشورو، راولپنڈی، فیصل آباد اور دیگر مقامات پر توانائی پیدا کرنے والے بند پڑے پلانٹس کو دوبارہ شروع کر دیتی ہے تو اس سے ملک کو نہایت کم قیمت پر بجلی پیدا کرنے میں مدد حاصل ہوگی۔

سید تنظیم حسین نقوی نے کہا، اگر حکومت واپڈا کے پاور جنریشن پلانٹ ہٹاتی ہے اور 40 فی صد بجلی ہائیڈرو اور 40 فی صد بجلی تھرمل سے پیدا کرتی ہے تو ملک کم قیمت میں بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

حکومت ان طریقوں کو استعمال میں لا کر آسانی کے ساتھ ایکسپورٹ سیکٹر کے علاوہ عوام کو بھی رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کے قابل ہوگی۔

پاور سیکٹر میں موجود ذرائع نے کہا ہے کہ یہ عوامی مفاد میں بہترین آپشن ہے لیکن حکومت کے پاس بدقسمتی سے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ریاستی پاور پلانٹس کو بحال یا تبدیل کرے۔

ذرائع کہتے ہیں، اگر یہ پلانٹ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں تو اس میں شبہ نہیں کہ ملک کم قیمت میں بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

ایشین ڈویلپمنٹ بنک، ورلڈ بنک اور دیگر معاشی ادارے بھی اس مقصد کے لیے فنڈز فراہم کرنے پر تیار نہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here