وفاقی کابینہ کا اجلاس: 10 ارب کا مہنگائی ریلیف پیکج ، 50 ہزار منی یوٹیلٹی سٹور بنانے کی منظوری، تین وزراء کی مخالفت

یوٹیلٹی سٹورز پر دالیں20 روپے سستی، آٹے کا تھیلا 805 روپے ، چینی 70 روپے ، خوردنی تیل 175 روپے فی کلو مقرر، نجی شعبے کو چینی درآمد کرنےکی اجازت ، کھاد سستی نہ ہونے پر وزیراعظم برہم، تحقیقات کا حکم

258
وزیر اعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کیلئے 10 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دیدی جبکہ کچھ وزراء نے نئے یوٹیلٹی سٹور قائم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمتیں کی جائیں۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کیلئے پانچ ماہ تک ماہانہ 2 ارب روپے (کل 10 ارب روپے) کے ریلیف پیکج کی منظوری دی گئی  تاکہ عوام کو اشیائے خورونوش کی فراہمی سستے داموں ہو سکے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یوٹیلٹی سٹورز پر دالوں کی قیمت پر 15 سے 20 روپے فی کلو رعایت دی جائے گی اور 20 کلو آٹے کا تھیلا 805 روپے میں دستیاب ہوگا۔ چینی کا سرکاری نرخ 70 روپے فی کلو مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ خوردنی تیل 175 روپے فی کلو میں ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کے دور کے بعد پی ٹی آئی حکومت میں مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا: عالمی جریدہ

وفاقی کابینہ نے کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے 50 ہزار منی یوٹیلٹی سٹورز کیلئے قرض جاری کرنے کی بھی منظوری دی تاہم  وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری  اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے نئے یوٹلٹی سٹورز قائم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم پٹرول کی قیمتیں کم کرنے پر خرچ کی جانی چاہیے۔

وفاقی کابینہ نے نجی شعبے کو چینی درآمد کرنے کی بھی اجازت دے دی ، نجی کمپنیاں ریگولیٹری ڈیوٹی ادا کرکے چینی درآمد کر سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگائی کی شرح 14.56 فیصد ہو گئی، ایک ہفتے میں 14 اشیاء مہنگی

وزیراعظم عمران خان نے کھاد ساز کمپنیوں کی جانب سے قیمتیں کم نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مشیر تجارت رزاق دائود کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیدیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کھاد ساز کمپنیوں کو مقررہ ریٹ پر کھاد فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے ، کسانوں کا استحصال نہیں ہونے دوں گا، مہنگائی کا معاملہ روزانہ کی بنیاد پر خود مانیٹر کروں گا،  مافیا کی سہولت کاری کرنے والے بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کہ ریلیف پیکج سے یوٹیلٹی سٹورز پر آٹا ، چینی ، چاول اوردالوں سمیت دیگر اشیائے خورونوش سستے داموں فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

اپوزیشن کا احتجاج، وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ:

دوسری جانب مہنگائی کی وجہ سے اپوزیشن وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

منگل کو  مسلم لیگ (ن) کے ارکان پارلیمنٹ نے مہنگائی کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا۔  لیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت عوام کا استحصال کررہی ہے، حکمران اب زیادہ وقت نہیں گزار سکیں گے، اگر ہمارے احتجاج کا نتیجہ نہ نکلا تو تحریک گلیوں تک پہنچ سکتی ہے۔

اس موقع پر رانا تنویر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی کی تحقیقات کرائی ہیں، وہ تحقیقاتی رپورٹ عام کی جائے اور پارلیمنٹ میں بحث کیلئے پیش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہمیشہ کی طرح اپنے قریبی رفقاء کو بچائیں گے لہٰذا وہ استعفیٰ دیں اور ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا آئی ایم ایف کی پالیسیاں واقعی پاکستانی معیشت کو تباہ کررہی ہیں؟ وزارت خزانہ کا جواب سامنے آگیا

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم بتائیں ان کی کون سی کرپشن کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے؟ یہ پارلیمنٹ بے اختیار ہے، ایوان میں مہنگائی پر بحث ہو رہی ہے لیکن مشیر خزانہ ہی موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  عمران خان کہتے تھے کہ لوگ ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کیونکہ وزیراعظم ایماندار نہیں، اب حکومت کا اپنا ادارہ کہہ رہا ہے کہ 7 مہینوں میں 700 ارب کا ٹیکس شارٹ فال ہے۔ کیا اب وزیراعظم ایماندار نہیں یا نااہل؟

خیال رہے کہ رواں سال کے پہلے مہینے میں مہنگائی کی شرح ملکی ترین کی بلند ترین سطح 14.6 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here