ایل پی جی بائوزرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں تاخیر کی خبریں غلط اور گمراہ کن ہیں: اوگرا

75

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اُن میڈیا رپورٹس کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ممبر گیس نے ایل پی جی بائوزرز(bowsers)  کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے میں تاخیر کی  اور اس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ اوگرا نے کہا ہے کہ اس حوالےمیڈیاپر چلنے والی خبریں غلط، بد نیتی پر مبنی اور گمراہ کن ہیں۔

مذکورہ خبر 3 فروری کو پاکستان ٹوڈے نے شائع کی جس کے جواب میں اوگرا  نے کہا ، ’’اگرچہ 2002ء سے اوگرا آرڈی نینس نافذ ہے،  ایل پی جی کی ٹرانسپورٹیشن کو ریگولیٹ کرنے کیلئےلائسنس کا اجراء پہلی بار 2011-12ء میں کیا گیا تھا، تاہم لائسنس کے مہنگے اور طویل طریقہ کار کی وجہ سے صرف تین لائسنس جاری کیے جا سکے، تاہم مارکیٹنگ کمپنیوں اور ایل پی جی کی صنعت سے وابستگان کے شدید اعتراضات کی بنا پر لائسنس فیس ایک لاکھ روپے سے کم کرکے پچیس ہزار روپے کردی گئی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ملک کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں ایل پی جی ایئر مکس پلانٹس کی تنصیب پر غور

اوگرا کی جانب سے مزید کہاگیا ہے کہ موجودہ ممبر گیس پروفیشنل اور تیل و گیس کے میدان میں طویل تجربہ رکھتے ہیں، انہوں نے ایل پی جی بائوزر لائسنسنگ کے معاملے کا غوروخوض سے جائزہ لیا اور اس کے طریقہ کار میں کافی خامیوں کی نشاندہی کی۔

’’پاکستان میں ایل پی جی بائوزرز مینوفیکچرز پہلے ہی اوگرا کی جانب سے سرٹیفائیڈ ہیں، جب ایل پی جی  بائوزر بنایا جاتا ہے تو چیف انسپکٹر آف ایکسپلوسیوز (CIE) اور متلعقہ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اسکے معائنہ کے بعد لائسنس جاری کرتے ہیں، یوں تینوں محکموں کی جانب سے سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد موجودہ طریقہ کار کے مطابق اوگرا کی مقرر کردہ تھرڈ پارٹی سے بھی سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:اوگرا کا ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ایل این جی سکینڈل میں مبینہ ملوث ملازمین کو قانونی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

اوگرا کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری طور پر 15 دن کے اندر ملک بھر میں ایل پی جی بائوزرز کو لائسنس حاصل کرنے کا حکم دیا گیا لیکن ایسا ممکن نہیں تھا اور اسکی وجہ سے پورے ملک میں ایل پی جی سپلائی بند ہو سکتی تھی،  اس لیے ممبر گیس نے یہ تجویز دی کہ پورے ایل پی جی سیکٹر کو ریگولیٹری نیٹ ورک کا حصہ بنایا جائے۔

رپورٹر کا جواب :

مندرجہ بالا خبر دینے والے رپورٹر احمد احمدانی کے مطابق اوگرا کی جانب سے خبر کی تردید ایک فیشن بنا چکا ہے،  ممبر گیس کی یکطرفہ کارروائی سے ایل پی جی ڈیپارٹمنٹ کی سالمیت اور افادیت کو نقصان پہنچا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اوگرا آرڈی نینس کے سیکشن 13 کے تحت اتھارٹی اپنے کسی فیصلے پر نظرثانی ، تبدیلی یا اسے واپسی لے سکتی ہے، تاہم ایک انفرادی ممبر اس فیصلے کو واپس نہیں لے سکتا جو 7 اگست 2019 کو کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here