جنوری میں یوریا کی فروخت میں 67 فیصد کمی

179

لاہور: پاکستان میں یوریا کی فروخت میں جنوری 2020 کے دوران سالانہ 67 فیصد کمی ہوئی ہے، جنوری 2019ء میں یوریا کی فروخت 564000 ٹن تھی جو جنوری 2020 میں 187000 ٹن رہی۔

یوریا کی فروخت میں ماہانہ بنیادوں پر دسمبر 2019ء کے مقابلے میں جنوری 2020ء میں 86 فیصد کمی دیکھی گئی۔

ٹاپ لائن ریسرچ سے تعلق رکھنے والے ریسرچ تجزیہ کار سنی کمار نے سوموار کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ وہ کھاد کی فروخت میں کمی کا خیال کر رہے تھے کیونکہ دسمبر 2019ء میں کسانوں اور ڈیلرز نے گیس اور کھاد کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر پہلے سے خریدنا شروع کر دی تھی جس کی وجہ سے بعد ازاں کھاد کی فروخت میں کمی ہوئی۔

البتہ گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس میں کمی ہونے کے باعث یوریا کی قیمتوں میں فی بیگ 160 سے 300 روپے کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یوریا کی پیداوار جنوری 2020ء میں سالانہ 13 فیصد اور 400000 ٹن کمی ہوئی جس کی بنیادی وجہ آر ایل این جی کے پلانٹس کو بند کیا جانا ہے۔

رپوٹ کے مطابق امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یوریا کی حتمی انونٹری 417000 ٹن کے لگ بھگ ہو۔

ٹاپ لائن کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری میں فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ کی یوریا کی فروخت میں سالانہ 62 فیصد سے 74000 ٹن کمی کا امکان جبکہ اینگرو فرٹیلائزر کی فروخت 55 فیصد سے 73000 ٹن کمی کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here