حکومت گلگت بلتستان نے ٹمبر مافیا کو مزید 5 ماہ ٹریڈ کی اجازت دے دی

مافیا سارا سال ہرے بھرے درختوں کی کٹائی کر کے حکومت کی جانب سے اجازت کی انتظار میں رہتا ہے کہ کب حکومت مافیا کو اربوں روپوں کے درختوں کو ڈسپوز کرنے کا حکم دیں۔

305

اسلام آباد: ملک بھر میں جنگلات کی کٹائی پر پابندی کے باوجود گلگت بلتستان (جی بی) میں جنگلات کی کٹائی جاری ہے۔

ٹمبر مافیا ماضی میں بھی درختوں کی کٹائی یہ تاثر دے کر کرتا رہا کہ وہ پہلے سے کٹے درختوں کو اٹھا رہے ہیں۔

یہ مافیا کالے دھن کو سفید کرنے میں دوبارہ کامیاب ہو گیا ہےاور اب بھی گلگت بلتستان سے اربوں روپے کے درختوں کی سپلائی ملک بھر میں کر رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے غیر قانونی طریقے سے جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان میں سخت اقدامات کیے، لیکن حکومتِ گلگت بلتستان نے مرکزی حکومت کے اقدامات کو پسِ پشت ڈال کر سرکاری طور پر ٹمبر مافیا کو آئیندہ 5 مہینوں کے لیے جنگلات کی کٹائی کی اجازت دے دی ہے۔

حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے 31 جنوری 2020  کے نوٹیفیکیشن کے مطابق جی بی حکومت نے باضابطہ طور پر آئیندہ 5 ماہ کے لیے تاجروں کو کہا ہے ”کہ وہ انہیں آخری موقع دے رہے ہیں۔”

یکم فروری سے نافذ ہونے والی اس پالیسی کی مدت 30 جون کو ختم ہوگی۔

جنگلات کی کٹائی  دیا میر ڈسٹرکٹ ، گلگت بلتستان کے پرائیویٹ جنگلات کی ٹمبر ڈسپوزل پالیسی کے پیش نظر کی  جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجازت پہلے سے کاٹے ہوئے جنگلات کو اٹھانے کے حوالے سے دی گئی تھی جبکہ درختوں کی دوبارہ کٹائی کو ممنوع کیا تھا۔

ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ مافیا سارا سال ہرے بھرے درختوں کی کٹائی بھی کرتاہے اور حکومت کی جانب سے اجازت کی انتظار میں رہتا ہے کہ کب حکومت انہیں اربوں روپوں کے درختوں کو ڈسپوز کرنے کا حکم دے۔

دیا میر ڈسٹرکٹ کے جنگلات کی حدود میں گرین ٹریز کی کٹائی کی شکایت موصول ہونے پر اس پالیسی کوروک دیا جائے گا۔

دیا میر کے رہائیشیوں کا کہنا ہے کہ پائن نَٹ ٹریز کی کٹائی سے قومی خزانے کو 15 بلین روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ٹمبر مافیا مقامی لوگوں کو 1 فٹ کی کٹائی کے عوض 40 روپے دے کر مارکیٹ میں 6000 روپے میں بیچ رہا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here