کرونا وائرس: چین کی معیشت پر دباؤ بڑھنے لگا، سیاحتی شعبہ سب سے زیادہ متاثر

چین کے نائب وزیر برائے ٹرانسپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے قمری سال کے پہلے روز ریلوے اور ہوائی جہازوں سے گزشتہ سال کی نسبت 40 فیصد کم مسافروں نے سفر کیا ہے 

121

بیجنگ: چین میں کرونا وائرس کے تباہ کن اثرات سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت سست روی کا شکار ہوگئی ہے جبکہ چین میں اس وائرس کے باعث نئے قمری سال کی خوشیاں بھی پھیکی پڑ گئی ہیں۔

گزشتہ سال چین کی مجموعی داخلی پیداوار (GDP) میں کچھ حد اضافہ ہوتا دکھائی دیا جو گزشتہ 3 دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ اور طلب میں کمی کے باعث کم ترین ریکارڈ کیا گیا تھا۔

چین کے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے چین کی معاشی حالت میں کچھ بہتری کی امید کی جارہی تھی جبکہ آخری 3 مہینوں کے اعدادو شمار میں کچھ استحکام بھی دیکھنے میں آیا۔

کیپیٹل اکنامکس کے جولین ایونز پرچرڈ نے کہا’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا وائرس سے 100 سے افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ وائرس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے علاوہ کھانے اور ریٹیل کے متعلق کاروبار بھی سنجیدہ صورتحال سے دو چار ہونگے۔

بیجنگ: ڈاکٹرز کرونا وائرس سے متاثرہ شہر ووہان جانے سے قبل ساتھیوں سے کو الوداع کہہ رہے ہیں (فوٹو: بشکریہ شہنوا)

قمری سال کی چھٹی اس وائرس کی وجہ سے ایک دن سے بڑھا کر 3 دن تک کر دی گئی جس کا مطلب ملک میں دوبارہ پیر کے روز سے آہستہ سے کاروباری مصروفیات سمجھا جا رہا تھا۔

قمری سال کی چھٹی کے لیے لاکھوں سیاحوں نے سیرو تفریح کے مقامات کا رخ کرنا چاہا لیکن چینی حکام نے وائرس کو روکنے کےلیے سیاحتی مقامات بند اور فلائیٹ آپریشنز اور ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں۔

چینی حکومت کی جانب سے ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل گروپ ٹورز کو منسوخ کرنے کے باعث سیاحتی شعبے پر گہرا اثر پڑا ہے جس سے سیاحت کی صنعت کو خسارہ بھگتنا پڑا ہے۔

چینی حکام نے کہا ہے کہ سیاح اپنی صحت کی حفاظت کریں اور چین آنے والے غیر ملکی سیاح اپنے تفریحی دورے کسی اور وقت پر اٹھا رکھیں یوں نئے قمری سال کے موقع پر یہ خبر چین کی سیاحتی صنعت کیلئے برا شگون ثابت ہوئی ہے۔

چین کے نائب وزیر برائے ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے قمری سال کے پہلے روز ریلوے اور ہوائی جہازوں سے گزشتہ سال کی نسبت 40 فیصد کم مسافروں نے سفر کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here