گزشتہ سال انگریزی روزنامہ ڈان میں خرم حسین نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے مجموعی طور پر  1.45 کھرب روپے چاہیں اور سابق چیف جسٹس سریم کورٹ جسٹس (ر) ثاقب نثار کے قائم کردہ ڈیم فنڈ میں اگر روزانہ کی بنیاد پر 20 ملین روپے کی خطیر رقم جمع کرائی جائے تو مطولبہ رقم 199 سال میں جمع ہو سکتی ہے۔

        ایک سال گزرنے کے بعد ابھی تک محض 11 ارب روپے اکٹھے ہوئے ہیں، منصوبہ میڈیا کی شہ سرخیوں سے بھی غائب ہو چکا ہے۔ عوامی فنڈز کی اس رفتار سے یہ دونوں ڈیم بننے ناممکن ہیں اور پانی کا بحران جس نے سپریم کورٹ اور وزیر اعظم آفس کو اس فنڈ کے قیام کیلئے مجبور کیا تھا وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

        تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ اس بحران پر قابو پانے یا اس کو کم کرنے کا موثر طریقہ کیا ہے؟ زرعی شعبے کی جانب سے پانی کا منظم انداز میں استعمال اور گندے پانی کی ری سائیکلنگ اس مسئلے کے قابل عمل حل ہیں۔ صنعتی شعبے میں پانی کے ضیاع کو ٹیکنالوجی سے مدد لیکر روکا جا سکتا ہے۔ Aqua Water Technologies  کے مینجنگ ڈائریکٹر آصف احمد کے مطابق ozonators اور واٹر ڈسٹورشن ٹیکنیک کے ذریعے 70 فیصد تک پانی پچایا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ ان دونوں طریقوں سے کم از کم 90  فیصد پانی کی بچت کی جا سکتی ہے۔

بڑھتا ہوا بحران:

        1951 ء میں پاکستان میں ہر شہری کیلئے 5653 کیوبک میٹر پانی موجود تھا۔ 2003ء تک یہ کم ہو کر 1200 کیوبک میٹر فی کس رہ گیا جو کہ عالمی معیار کے بھی سراسر خلاف ہے، عالمی طور پر ایک شخص کیلئے کم از کم 1500 کیوبک میٹر پانی ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ اگر ہم پانی جیسی نعمت کو یوں ہی ضائع کرتے رہے تو 2025ء میں ہر پاکستانی کیلئے محض 800  کیوبک میٹر پانی باقی بچے گا۔

        پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کا مقابلہ بڑھتی آبادی، صنعتکاری اور شہروں کے پھیلائو کیساتھ ہے۔ محقق سلیم کھوسو کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 23 فیصد پانی صنعتی شعبے میں استعمال ہوتا ہے، 8 فیصد گھریلو طور پر اور سب سے زیادہ 69 فیصد زرعی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک دوسری تحقیق بتاتی ہے کہ 2025ء تک گھریلو اور صنعتی طور پر پانی کا استعمال مزید 15 فیصد بڑھ جائیگا۔ سنہ 2000ء میں گھریلو اور صنعتی شعبوں میں پانی کا استعمال محض 3 فیصد تھا۔

        شائد ایسی خبروں میں کسی کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ ملک کا معاشی مرکز کراچی پانی کے بدترین بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ ان دنوں شائد یہ خبر بھی پرانی ہو چکی ہے۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کہتے ہیں کراچی کو روزانہ 500 ملین گیلن پانی مل رہا ہے لیکن اس شہر کی ضرورت دُگنی یعنی 1100 ملین گیلن ہے جس کا مطلب ہے کہ آبادی کے ایک بڑے حصے کو روزانہ پانی جیسی بنیادی ضرورت زندگی دستیاب نہیں ہوتی۔

        کیا ozonization کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے؟ واضح طور پر کچھ کہنا مشکل ہے لیکن اس طرح پانی کی کمی سے کسی حد تک نمٹا جا سکتا ہے۔ کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف آرکیٹیکچر اینڈ پلاننگ کے چیئرپرسن ڈاکٹر نعمان احمد کہتے ہیں کہ شہر میں روزانہ 460 ملین گیلن گندا پانی پیدا ہوتا ہے، اس میں 40 فیصد پانی بآسانی ہارٹی کلچر وار صنعتی شعبے کیلیے قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ ابھی تک صرف 66 ملین گیلن پانی کا دوبارہ قابل استعمال بنایا جا رہا ہے اور انڈسٹری میں تو ری سائیکلڈ یا گرے واٹرکی بجائے بالکل تازہ پانی استعمال کیا جا رہا ہے۔

        لاہور میں بھی صورتحال زیادہ بہتر نہیں۔ Save Every Drop  کے شریک بانی محمد زید کے مطابق لاہور میں ٹیکسٹائل کی تین بڑی کمپنیاں یہاں کے ایک کروڑ 20 لاکھ باسیوں سے زیادہ پانی استعمال کر رہی ہیں۔ ’’سیو ایوری ڈراپ‘‘ ایک ایسا سٹارٹ اپ ہے جو ویسٹ واٹر کی فلٹریشن اور ری سائیکلنگ کرکے اسے قابل استعمال بناتا ہے۔

اندسٹریز بمقابلہ انوویٹرز:

        ذرائع نے ’’منافع‘‘ کو بتایا کہ انڈسٹری مالکان ozonization  کو قبول کرنے سے انکاری ہیں، ایک کمپنی ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صنعتی شعبے پر حاوی ’’سیٹھ مائنڈ سیٹ‘‘ (خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری پر) پانی کی ری سائیکلنگ سے متعلق نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے،   دوسرے ملکوں میں حکومتیں مینوفیکچرنگ سیکٹر کو اس بات کا پابند کرتی ہیں کہ وہ واٹر ٹریٹمنٹ کیلئے مناسب بندوبست کرے آلودہ پانی کو زمین یا دیگر آبی ذخائر کے سپرد نہ کریں لیکن پاکستان میں سیٹھ ہمیں بتاتے ہیں کہ پانی کافی مقدار میں موجود ہے اور ری سائیکلنگ وغیرہ کے چکر میں پڑ کر کوئی نیا خرچہ گلے نہیں ڈالنا چاہتے۔‘‘

        یہ ایک حقیقت ہے کہ ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں آبی ذخائر کم ہو رہے ہیں، اور اس حقیقت سے انکار یا آنکھیں بند کرنے سے پاکستان واٹر ٹریٹمنٹ سے متعلق ٹیکنالوجیز کے شعبے میں دنیا سے پیچھے رہ جائیگا۔ مارکیٹ میں دستیاب کچھ ٹیکنالوجیز براہ راست کسی قسم کی آمدن نہیں دیتی ہیں اسی لیے صنعتکار انہیں استعمال کرنے سے کتراتے ہیں اس لیے حکومت کی مداخلت اس معاملے میں ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ozonization  ماحول دوست ہونے کے ساتھ سستی ٹیکنالوجی بھی ہے۔ اسی کمپنی کے ملازم نے بتایا کہ ’’یہ ٹیکنالوجی ماحول کیلئے اس لیے اچھی ہے کیونکہ اس پراسس سے آکسیجن بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک وقت کی سرمایہ کاری ہے اور تین سال میں آپ کی سرمایہ کاری واپس مل جاتی ہے، یہ گندے پانی کا عمومی ٹریٹمنٹ ہے جو قدرے مہنگا بھی ہے۔‘‘

        تاہم یہ نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ اوزونازیشن کے ماحولیاتی فوائد سے تبھی مستفید ہوا جاتا ہے جب صنعتی شعبے میں اس عمل کا استعمال بغیر انسانی مداخلت کے ہو۔ آکسیجن کی نسبت اوزون ایک ردعمل دینے والی گیس ہے اس لیے جانداروں پر منفی اثر کر سکتی ہے۔

        ’’سیو ایوری ڈراپ‘‘ نے البتہ واٹر ری سائیکل کیلئے ایک دوسرا طریقہ متعارف کرایا ہے جسے ’’مولیکیولر ڈسٹورشن ٹیکنیک‘‘ کہتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی گندے پانی سے 90 فیصد زیادہ آلودہ اجزاء کو علیحدہ کر سکتی ہے جس سے پانی صنعتی استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو اپنا کر صنعتی شعبے میں پانی کا استعمال آدھا ہو سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی گھروں میں بھی استعمال ہو سکتی ہے اور گرے واٹر (گندہ پانی) کپڑے دھونے اور پودوں کو دینے کے قابل بنایا جا سکتا ہے البتہ پینے کیلئے مناسب نہیں ہوتا۔

        ان دنوں بہت ساری کمپنیاں اور فیکٹریاں گندہ پانی براہ راست زمین کے سپرد کے کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے زیر زمین پانی آلودہ ہو رہا ہے جو لوگ روزمرہ کی ضروریات کیلئے اور پینے کیلئے استعمال کر رہے ہیں، کراچی میں گندہ پانی سمندر کو آلودہ کرکے آبی حیات کو مار رہا ہے۔ ’’سیو ایوری ڈراپ‘‘ کے شریک بانی محمد زید کہتے ہیں کہ اگر وہ کسی صنعتی کمپلیکس کے قریب رہائش پذیر ہوں جو اپنا آلودہ پانی زمین میں ڈال رہا ہو تو ظاہر ہے جو پانی بورنگ کے ذریعے میرے گھر آئے گا اس میں بھی بے شمار کیمیلز شامل ہونگے اور وہ انسانی زندگی کیلئے خطرناک ہو گا۔

        اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 40 فیصد اموات کی وجہ آلودہ پانی سے پیدا شدہ بیماریاں بنتی ہیں، پاکستان کونسل آف ریسرچ برائے آبی وسائل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی کی کمی اور آلودہ پانی سے پیدا شدہ بیماریوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت اور صحت کے شعبے کو خاطر خواہ نقصان پہنچ رہا ہے، جب 25 بڑے شہروں کا پانی ٹیسٹ کیا گیا تو پتہ چلا کہ زیر زمین پانی میں بیکٹریا اور دیگر آلودہ اجزاء کی وجہ سے مضرصحت ہو چلا ہے، زمین کی سطح پر آبی وسائل اور زیر زمین پانی میں گندے اور صنعتی اجزاء کی ملاوٹ کی وجہ سے ناصرف آبی حیات پر برے اثرات پڑ رہے ہیں بلکہ یہ آلودہ اجزاء تازہ پانی کے ذخائر کو بھی خراب کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انسانی صحت اور زراعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

        ڈاکٹر نعمان کہتے ہیں کہ ’’محقیقین اور میڈیا کی بارہا پیش کی جانے والی رپورٹس میں نشاندہی کے باوجود پانی کی کوالٹی مطلوبہ معیار سے کم تر ہے، کراچی کے مخلتف مقامات سے حاصل شدہ پانی کے نمونوں کا جب معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ 97 فیصد پانی پینے کے قابل ہی نہیں، ان سب جگہوں پر واٹر ٹریٹمنٹ کی اشد ضرورت ہے۔‘‘

ڈاکٹر نعمان احمد ۔۔۔ چیئرپرسن آرکیٹیکچر اینڈ پلاننگ ڈیپارٹمنٹ این ای ڈی یونیورسٹی کراچی

        پاکستان نیشنل واٹر پالیسی کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک فیصد سے بھی کم گندہ پانی ضائع کرنے سے پہلے ٹریٹمنٹ کے عمل س گزارا جاتا ہے، اندسٹری مالکان کی جانب سے آلودہ پانی کی ری سائیکلنگ سے انکار کی وجہ سے زیر زمین پانی کے ذخائر تباہ ہو رہے ہیں اور یہ جیو سفیئر کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

        اربن ریسورس سینٹر کراچی کے جوائنٹ ڈائریکٹر زاہد فاروق نے ایک دس سال پرانی ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں اُس وقت روزانہ پچاس ہزار ٹینکرز کے ذریعے پانی سپلائی کیا جاتا تھا اس کے علاوہ پانی کی لائن سے بھی سپلائی دی گئی تھی، یہ ریسرچ سماجی کارکن پروین رحمان کی جانب منعقد کی گئی تھی جنہیں کراچی شہر میں مافیاز اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو بے نقاب کرنے پر 2013 میں قتل کردیا گیا تھا۔

        زاہد فاروق نے کہا کہ بہت زیادہ پانی نکالنے کی وجہ سے زیر زمین پانی کے قدرتی ذخائر کم ہو رہے ہیں اور اس کی سطح مزید نیچے جا رہی ہے۔

        ڈاکٹر نعمان نے بھی زاہد فاروق کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ زیادہ مقدار میں زیر زمین پانی نکالے جانے کی وجہ سے زمین کی پرتوں پر بھی اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے بلند عمارتیں بنانا مشکل ہو جاتا ہے اور کنسٹرکشن پر اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

اسامہ جاوید شیخ ۔۔۔۔ شریک بانی ’’سیور ایوری ڈراپ‘‘

     ’’سیو ایوری ڈراپ‘‘ کے شریک بانی محمد زید کے پارٹنر اسامی جاوید شیخ کے مطابق ان کا سٹارٹ اپ پانی سے متعلق مسائل کا بہترین حل فراہم کرتا ہے جس پر عمل کرکے صنعتوں میں تازہ پانی کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے۔ ’’پاکستان میں کم و بیش ساری صنعتیں ہی کم وسائل کی وجہ سے واٹر ٹریٹمنٹ نہیں کرتی ہیں۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کرنے ناصرف زیادہ جگہ چاہیے بلکہ یہ مہنگے بھی ہوتے ہیں، ہمارے پلانٹس نا صرف چھوٹے ہیں بلکہ 40 سے 50 فیصد تک سستے بھی ہیں جنہیں Effluent Treatment Plants (ETPs) کہا جاتا ہے۔ ہمارا بنایا گیا ایک پلانٹ نا صرف پانی کو محفوظ ضیاع کیلئے صاف کرتا ہے بلکہ اسے 70 فیصد تک ری سائیکل کرکے دوبارہ استعمال کے قابل بھی بناتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی کمی اور آلودگی دونوں مسائل سے بیک وقت نمٹا جیسا جا سکتا ہے۔اس طرح ہم پاکستان کے دو بڑے مسائل کا حل ایک ہی وقت میں پیش کر رہے ہیں، ہماری ٹیکنالوجی ہر طرح کے آلودہ پانی کو ری سائیکل کر سکتی ہے چاہے یہ جوہر کا ہو، گٹر کا یا کسی فیکٹری کا ہو۔‘‘

        ڈاکٹر نعمان کہتے ہیں کہ اگر صنعتیں ری سائیکلڈ واٹر استعمال کرنے لگٰیں تو ان کی پانی کی طلب میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے اور اس سے ہونے والی بچت پانی کی کمی کا شکار علاقوں میں خرچ کی جا سکتی ہے۔

        تاہم یہ دیکھنا ہو گا کہ پانی صاف کرنے کی ٹیکنالوجی کسی قدر مہنگی یا سستی ہے کیونکہ ’’سیوایوری ڈراپ‘‘ بھی اسی مسئلے پر قابو پانے کیلئے میدان میں ہے، پاکستان کی برآمدی صنعت خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری عام طور پر کم آمدن والی اندسٹری سمجھی جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر یہ بین الاقوامی بزنس بھی حاصل کرتی ہے تو وہ اتنا ہی کم قیمت ہو گا، کیونکہ اگر اس قیمت بڑھے تو برآمدات کو نقصان پہنچے گا۔

        حکومت برآمدات بڑھانے کی تگ و دو میں لگی رہتی ہے، اسی لیے اس صنعت کو ٹیکسوں میں اچھی خاصی چھوٹ دی جاتی ہے تاکہ وہ مسابقت کی دوڑ میں شریک رہ سکیں، یہ صنعتیں پاکستان کی زرمبادلہ کماتی ہیں  اس لیے عام طور پر وہ سرکاری اداروں کی جانب سے چھان بین سے بچ جاتی ہیں۔ تاہم پانی کا مسئلہ ایسا ہے کہ اسے قدرتی نعمت اور انسانی صحت کے مسئلہ کے طور پر لازماََ سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

        ڈاکٹر نعمان کہتے ہیں کہ جب آلودہ پانی صاف پانی کی پائپ لائنوں میں ملتا ہے تو انسانی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیساکہ کراچی کے علاقے لانڈھی میں کچھ سال پہلے ایسا ہوا تو ہزاروں کو گیسٹرو اور دیگر بیماریوں کا شکار ہوگئے تھے۔ متوسط اور اوپر کا طبقہ کا عام طور پر بوتل والا پانی استعمال کرلیتا ہے یا پھر گھریلو استعمال کیلئے فلٹریشن، الٹروائلٹ ٹریٹمنٹ ڈوائسز کا استعمال کر لیتا ہے یا پھر پانی ابال کر استعمال کر لیتا ہے، لیکن غریب آدمی کے پاس نا تو پانی کے محفوظ استعمال کا شعور ہوتا ہے اور نا وہ اسے صحت کیلئے محفوظ بنانے کی تگ و دو کرتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here