غیر رجسٹرڈ کاروبار سیلز ٹیکس وصول نہیں کرسکتے، عوام خبردار رہیں: ایف بی آر

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جمع کرانے کی تاریخ میں بھی 19 اگست تک توسیع کردی

119

سلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکشاف کیا ہے کہ محکمے کو عوام کی جانب سے ایسی شکایات ملی ہیں کہ کچھ کاروبار سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء  کے تحت رجسٹرڈ ہوئے بغیر صارفین سے سیلز ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ صرف سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ شخص ہی صارفین سے سیلز ٹیکس وصول کرسکتا ہے اور ایف بی آر کیساتھ رجسٹرڈ ایسے شخص کو 13 ہندسوں پر مشتمل سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر (STRN) دیا جاتا ہے۔

کوئی بھی ایسا کاروبار جو رجسٹرڈ نہیں ہے اور اس کے پاس سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر موجود نہیں ہے تو وہ کسٹمرز سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسی انوائس جس پر سیلز ٹیکس نمبر موجود نہ ہو اس میں سیلز ٹیکس شامل نہیں کیا جا سکتا اور اگر ایسا کیا جائے تو کسٹمر کو چاہیے کہ وہ سیلز ٹیکس انوائس طلب کرے جس پر سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر پرنٹ ہو۔

ایف بی آر کی جانب مزید کہا گیا ہے کہ نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) انوائس پر پرنٹ کرنے کا مطلب ہر گز سیلز ٹیکس کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ عوام کی سہولت کیلئے ایف بی آر نے ایک سپیشل ہیلپ لائن بھی قائم کردی ہے۔

دوسری جانب ایف بی آر نے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کردی۔

ایف بی آر کے مطابق تاریخوں میں توسیع عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کے باعث کی گئی جس کے بعد اب جولائی 2019 کا سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 19 اگست تک جمع کرائی جاسکتی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کے گوشوارے 21 اگست تک جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here