بیل آئوٹ پیکج: پاکستان اور آئی ایم ایف آج سٹاف لیول معاہدے کا اعلان کریں گے

معاہدے کے مطابق حکومت آئندہ بجٹ میں 350 ارب روپے کے مخلتف ٹیکس استثنیٰ ختم کرے گی جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی بڑھائی جائیں گی

238

اسلام آباد: پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط پر سرتسلیم خم کردیا ہے جس کے بعد فریقین آج (جمعہ) 7 سے 8 ارب ڈالر کے بیل آئوٹ پیکج کیلئے سٹاف لیول معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کریں گے. معاہدہ طے پانے سے آئندہ بجٹ میں عوام پر کئی نئے ٹیکس لگنے اور مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے.

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز (جمعرات) کو مذاکرات کا آخری دور مکمل ہوا جس میں مالیاتی خسارہ اور پرائمری بیلنس کو حتمی شکل دی گئی. ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس مشکل دور سے نکلنے کیلئے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا.

آج (جمعہ) گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر پاکستان میں موجود آئی ایم ایف حکام کو قرضے کیلئے باقاعدہ درخواست دیں گے.

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے ذمے پہلے ہی آئی ایم ایف کا 5.8 ارب ڈالر قرضہ واجب ادا ہے.

معاہدے کے مطابق حکومت آئندہ بجٹ میں 350 ارب روپے کے مخلتف ٹیکس استثنیٰ ختم کرے گی جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی بڑھائی جائیں گی. تاہم ٹیکس اور انرجی کے شعبوں میں اصلاحات کو ترجیح دی جائے گی.

ذرائع کے مطابق حکومت سبسڈی کم کر کے صرف انرجی سیکٹر میں صارفین کی جب سے 340 ارب روپے نکلوائے گی.

فریقین میں یہ بھی اتفاق ہوا ہے کہ نیپرا کو خودمختار بنایا جائیگا اور اہم فیصلوں میں حکومتی مداخلت کم سے کم کی جائے گی.

اس کے علاوہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اکسچینج ریٹ آزادانہ طور پر طے کرنے کے قابل ہوگا اور بغیر کسی حکومتی دبائو کے ڈالر کا ریٹ مقرر کرسکے گا. اس کا مطلب ہے حکومت 2019ء میں روپے کی قدر میں مزید کمی اور شرح سود میں مزید اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے.

وزارت خزانہ کے ایک افسر نے تصدیق کی کہ آئندہ مالی سال کیلئے 10 سے 11 ارب ڈالر فنانسنگ گیپ متوقع ہے اور پالیسی ریٹ میں 100 سے 200 بیسز پوائنٹ اضافہ کے آئی ایم ایف کے مطالبے کو ماننے کے علاوہ غیر ملکی زرمبادلہ کے حوالے سے بھی مختلف اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے.

اس سے قبل آئی ایم ایف کی جانب کرنٹ اکائونٹ خسارہ 4 سے 6 ارب ڈالر رکھنے پر زور دیا جا رہا تھا تاہم آئندہ مالی سال کے لیے خسارہ 8 ارب ڈالر رکھنے پر اتفاق ہو گیا.

آئی ایم ایف حکام نے مالیاتی ایڈجسٹمس کیلئے حکومت کو آئندہ بجٹ میں اضافی ٹیکس عائد کرنے کا کہا ہے جبکہ بجٹ بنانے کا عمل سٹاف لیول معاہد طے پانے کے بعد شروع ہوگا.

بجٹ خسارہ کم کرنا بھی حکومت کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہے جو صرف اور صرف اخراجات کم کرکے اور آمدن بڑھا کر ہی ختم کیا جا سکتا ہے تاہم اخراجات میں‌ کمی خارج از امکان ہے.

وزارت خزانہ کے اہلکار کے مطابق آئی ایم ایف نے ترقیاتی بجٹ ایک خاص حد سے کم کرنے کی مخالفت کی ہے. جس کے بعد صرف آمدن میں اضافے کا آپشن باقی رہ گیا ہے.

گزشتہ مالی سال میں بجٹ خسارہ 6.6 فیصد تھا اور ماہرین نے رواں سال کیلئے 7 فیصد کی پیشگوئی کی تھی. سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے حال ہی میں کہا تھا کہ 30 جون تک بجٹ خسارہ 7.6 فیصد تک جا سکتا ہے.

بجٹ کب پیش ہوگا؟
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 22 مئی تک ٹیکس تجاویز دینے سے معذوری ظاہر کی تھی جس کے بعد آئندہ بجٹ 11 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here