وفاقی تجارتی کمیشن کی جانب سے فیس بک کو 5 ارب ڈالر تک جرمانے کا امکان

218

فیس بک کو حالیہ مہینوں میں کئی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کا اثر فیس بک کی آمدن پر بہت زیادہ برا نہیں پڑا ہے۔ اب فیس بک کو لگتا ہے کہ وفاقی تجارتی کمیشن (ایف ٹی سی) انہیں بھاری جرمانہ کرسکتا ہے۔ اگر ایف ٹی سی نے یہ جرمانہ کر دیا تو اس کا فیس بک کی آمدن پر شدید اثر پڑے گا۔
فیس بک نے 2019ء کی پہلی سہ ماہی کے مالی اعداد و شمار جاری کر دئیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس سہ ماہی میں فیس بک کی کل آمدن 15.1 ارب ڈالر رہی، جو پچھلے سال کے اسی عرصے سے 26 فیصد زیادہ ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فیس بک نے اپنی رپورٹ میں تخمینہ لگایا ہے کہ انہیں فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی طرف سے 3 سے 5 ارب ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔یہ جرمانہ فیس بک کی طرف سے ڈیٹا شیئرنگ میں ہونے والی کوتاہیوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں کمپنی نے اس سہ ماہی میں 3 ارب ڈالرادا طلب اخراجات کی مد میں رکھے ہیں۔
اس سے کمپنی کا مجموعی خالص منافع پچھلے سال کے مقابلے میں 51 فیصد کم ہوگیا ہے۔
فروری میں واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی تھی کہ فیس بک ایف ٹی سی کے ساتھ کئی ارب ڈالر کےئ جرمانے میں کمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔اگر فیس بک ایف ٹی سی کو 3 سے 5 ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرتا ہے تو یہ کسی بھی ٹیکنالوجی کمپنی کی طرف سے ایف ٹی سی کو ادا کیا جانے والا سب سے بڑا جرمانہ ہوگا۔ اس سے پہلے گوگل پرائیویسی میں کوتاہی کی تحقیقات کے بعد 22.5 ملین ڈالر جرمانہ ادا کر چکا ہے۔
فیس بک نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے۔
اپنی رپورٹ میں فیس بک نے بتایا ہے کہ 2019 کی پہلی سہ ماہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 2.38 ارب ڈالر رہی۔ یہ پچھلے سال کے اسی عرصے سے 8 فیصد زیادہ ہے۔ اس سہ ماہی میں یومیہ فعال صارفین کی تعداد 1.56 ارب رہی جو 2018 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔ مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ یہ سہ ماہی کافی اچھی رہی ہے، اس میں کاروبار اور کمیونٹی میں اضافہ ہوا ہے۔
ایف ٹی سی کے بھاری جرمانے پر فیس بک کے سی ایف او ڈیوڈ وہنر کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ابھی حل نہیں ہوا ہے اس لیے ادائیگی کی اصل رقم ابھی تک غیر یقینی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here