پاکستان کی سست معیشت خطے کی مجموعی ترقی پر اثر انداز ہوگی: آئی ایم ایف

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں بڑھتے ہوئے عالمی قرضوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی قرضوں کا حجم اب 164 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو عالمی جی ڈی پی کا 225 فی صد ہے۔

225

عالمی مالیاتی ادارے (IMF) نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ دنوں میں پاکستان کی معیشت بڑے پیمانے پر سست روی کا شکار ہو گی جس سے خطے کی مجموعی معاشی ترقی کی شرح پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

آئی ایم ایف کے محکمہ مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزور نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAP) کے معاشی منظر نامے کے حوالے سے عالمی معاشی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مذکورہ خطوں میں پالیسی سازی کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے.

انہوں نے کہا کہ اس خطے کے تیل کے درآمد کنندگان کے لیے شرح نمو 2018ء میں 4.2 فیصد رہی جو اب 3.6 فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے جس کی وجہ کمزور عالمی معاشی صورتحال ہے۔

جہاد آزور نے کہا کہ تیل درآمد کرنے والے متعدد ممالک کے لیے قرضوں کی بڑھتی ہوئی شرح بڑے پیمانے پر اقتصادی استحکام کیلئے چیلنج بن چکی ہے جس کی وجہ سے ان ممالک میں صحت، تعلیم، انفرا اسٹرکچر اور سماجی پروگراموں میں سرمایہ کاری کے لیے مالیاتی خلا محدود ہو گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں بڑھتے ہوئے عالمی قرضوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی قرضوں کا حجم اب 164 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو عالمی جی ڈی پی کا 225 فی صد ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں دنیا بھر کی عوام اور نجی شعبہ 2008ء کے مالیاتی بحران کی نسبت زیادہ قرض میں ڈوبا ہو گا جب عالمی قرض بلند ترین شرح پر تھا جو مجموعی عالمی جی ڈی پی کا 213 فی صد تھا۔

جہاں عالمی قرضوں میں اضافے کی وجہ سے تیزی سے ترقی کرتی معییشتیں ہیں، وہیں گزشتہ دس سال میں چین جیسی تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتیں بھی اس اضافے کی ذمے دار ہیں جہاں 2007 سے اب تک صرف چین عالمی قرض میں کلُ 43فیصد اضافے کی وجہ بنا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here