پاکستان کے مسائل کا پائیدار حل انتظامی اصلاحات میں مضمر ہے، ماہرین

772

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے ہمارے دیرینہ مذاکرات چلتے آ رہے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے آئی ایم کے کئی پروگرامز سے استفادہ بھی حاصل کیا ہے۔
پاکستان کی معیشت مدوجزر کا شکار رہی ہے لیکن ہم گاہے بہ گاہے اس بحران سے نکلنے کیلئے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز سے استفادہ حاصل کرتے ہیں یا پھر دوست ممالک سے ملنے والی امداد سے اپنے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرتے ہیں۔
کئی ناقدین نے حکومت پر آئی ایم ایف سے رجوع کے بارے ابہام اور ناکامیوں کے حوالے سے تنقید کی ہے لیکن حالیہ پیشرفت اور رپورٹس اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جون میں رواں مالی سال کے اختتام پر بیل آؤٹ پیکج حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ برس اکتوبر میں آئی ایم ایف سے باضابطہ بیل آؤٹ کی درخواست کی تھی جس کے بعد معاشی میدان میں نمایاں پیشرفت سامنے آئی۔
گزشتہ برس نومبر میں آئی ایم ایف کے ایک وفد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا دورہ کیا جس کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب سے ملنے والی امداد اور چائنہ کی جانب سے 2۔5 ارب ڈالر کے قرض کے وعدے سے پاکستان اپنی کمزور معاشی صورتحال کو بہتر کرنے میں‌ کامیاب رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 7 ارب ڈالر کی خطرناک سطح سے بھی نیچے گرنے والے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر بھی 8.296 ارب ڈالر کی سطح کو چھونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
برادر ملک سعودی عرب کی جانب سے نومبر سے فروری تک 1 ارب ڈالر کی قسط کے حساب سے وعدے کے مطابق 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے ملنے والی 1 ارب ڈالر کی قسط بھی جنوری کے اختتام تک وصول ہو چکی ہے جس سے حکومت کو کچھ سکون ملا ہے۔
گزشتہ اتوار دبئی میں ہونے والے عالمی حکومتی سمٹ کے دوران وزیراعظم عمران خان اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لوگارڈ کے مابین ہونے والی ملاقات کو بھی مثبت پیشرفت تصور کیا جا رہا ہے۔ کرسٹین لوگارڈ نے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعادہ کرنے کے ساتھ ساتھ فیصلہ کن پالیسیز اور معیشت کے استحکام کیلئے مضبوط معاشی اصلاحات کے مطالبہ کو بھی دہرایا۔
وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے ساتھ آئی ایم کے تعاون کی یقین کو سراہا اور حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتظامی اور حکومتی اصلاحات اور عام آدمی حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کی بھی یقین دہانی کروائی۔ دونوں فریقین کی جانب سے پالیسیوں اور اصلاحات پر مشترکہ تعاون اور پاکستان میں بیروزگاری کے خاتمے کے عزم کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
اس کے علاوہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے عملے کے مابین پاکستان کی بہتری کیلئے معاہدوں کو بھی حتمی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
پرافٹ/منافع سے گفتگو کرتے ہوئے چند معروف تجزیہ کاروں نے آئی ایم ایف کی جانب سے ہونے والی پیشرفت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا
کیا دوست ممالک سے امداد لے کر بیرونی خسارے کو کم کرنا پائیدار حل ہے؟
سینئر مشیر ٹنڈرا فونڈر آصف ارسلان حیدر سومرو کا ماننا ہے کہ یہ خسارے کے فرق کو روکے رکھنے کے اقدامات ہیں تاکہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ کی شدت کو کم کیا جا سکے اور اسی لئے روپے کی قدر میں بھاری کمی، سخت مالیاتی پابندیوں اور ترقیاتی اور دفاعی اخراجات میں کمی جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
پائیدار حل کیلئے انہوں نے حکومت کو اپنی مدت کے اختتام مجموعی قومی پیداوار میں اضافی اقدار پر توجہ دیتے ہوئے برآمدات کی شرح کو 11 سے 12 فیصد تک پہنچانے کا مشورہ دیا۔
اے اے ایچ سومرو نے مزید کہا کہ ’’براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی اسی صورت میں حوصلہ افزائی کرنا چاہیئے جب درآمدات میں کمی ہو اور برآمدات سے قومی خزانے میں اضافہ ہو۔‘‘
تاہم انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کے سینئر ریسرچ تجزیہ کار بوبن مارکووچ کا کہنا ہے کہ ’’سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ حالیہ سرمایہ کاری سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے جس کی وجہ سے رواں مالی سال کے نصف تک براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں پچھلے سال کی نسبت نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری معاشی استحکام کا زیادہ پائیدار حل ہے لیکن ان سرمایہ کاریوں کے فوائد سمیٹنے میں ابھی کچھ سال درکار ہیں۔
پاکستان کے مسائل کا پائیدار حل انتظامی اصلاحات میں مضمر ہے۔ قرضے تب تک کمی کے فرق کو پورا کرنے کیلئے ہیں جب تک ان اصلاحات کے اثرات حاصل نہیں ہو جاتے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کوئی ملک قرضہ لے لیتا ہے لیکن اصلاحات لانے میں ناکام رہتا ہے۔‘‘
عارف حبیب لمیٹڈ کے ماہرِ سرمایہ کاری فیضان کامران کا کہنا ہے کہ ’’دوست ممالک سے ملنے والی امداد صرف بیرونی اکاؤنٹ خسارے کو روکے رکھنے کے انتظامات ہیں اور طویل مدت کیلئے زیادہ پائیدار نہیں‌ ہیں۔
معاشی ترقی کیلئے مسلسل قرضوں کے حصول سے مشکل وقت میں زرمبادلہ ذخائر کو سہارا تو مل جاتا ہے لیکن اتنا ہی مزید قرضوں میں دھنس بھی جاتے ہیں۔
دوست ممالک سے ملنے والی امداد کو زرمبادلہ کے ذخائر میں‌ توازن اور روپے کی قدر میں‌استحکام کیلئے صرف عارضی حل ہی تصور کیا جا سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے وضاحت کی کہ زیادہ تر توجہ برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ مقامی صنعت کو زیادہ فروغ دیا جانا چاہیئے تاکہ برآمدات میں‌اضافہ ممکن ہو سکے۔
کامران نے متبادل درآمدی ذرائع کی اہمیت پر زور دیا۔ تیل جیسی دیگر مصنوعات ہماری درآمدی ضروریات ہیں اس لئے حکومت کو کیمیکلز، زراعت اور اسٹیل جیسی صنعتیں جو درآمدات کا متبادل ہو سکتی ہیں کی پیداوار میں اضافہ پر غور کرنا چاہیئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’تاریخ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان نے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر کیلئے ترسیلات زر پر ہی انحصار کیا ہے۔ منی لانڈرنگ اور قوائد و ضوابط کے اطلاق پر عالمی دباؤ پیسے کو قانونی ضابطے میں لانے پر زور دے رہا ہے۔
ترسیلات زر کو بینکوں کے توسط بنانے کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے موبائل والٹ متعارف کروایا جو ترسیلات کے بہاؤ کیلئے ایک مثبت اقدام ہے۔‘‘
انتظامی اصلاحات اور مالی ضوابط کا نفاذ
موجودہ حکومت کا اقتدار کے ابتدائی مہینوں میں آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پر مؤقف غیر یقینی تھا اور اسی وجہ سے کئی ناقدین اور اپوزیشن کی جانب سے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
اے اے ایچ سومرو کے مطابق انتظامی اصلاحات کیلئے سیاسی جہد بہت ضروری ہے۔ ’’جب کرپشن کے کیسز ثابت ہو جائیں تو ووٹر کو قائل کرنے کیئلے مضبوط قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت کی زیرو ٹالیرنس پالیسی کے ابتدائی نتائج مثبت رہے ہیں۔ یہ دلچسپ امر ہوگا انتخابی فیصلوں سے مزید بجلی کی فراہمی اور اپنے حلقوں میں بجلی چوری کو روکا جائے گا۔‘‘
انہوں‌ نے کہا کہ ’’اس کے علاوہ سرکاری اداروں میں غیر مؤثر عملے سے نمٹنے کی مؤثر حکمت عملی ہونی چاہیئے۔ حکومت کی توجہ نجی شعبے کی ترقی اور سرمایہ کاری پر مرکوز ہے۔ نجی شعبے کے ترقیاتی کاموں میں کمی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
آئی ایم ایف قرضوں کی زیادہ سے زیادہ واپسی کے حوالے سے کافی فکر مند ہے۔ انتظامی اصلاحات کے نفاذ مثلا ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری، بیوروکریسی اور کاروبار میں آسانیوں کیلئے سیاسی سرپرستی اور اس کا جاری رہنا بہت ضروری ہے۔‘‘
مارکووچ کے مطابق ’’پاکستان بڑے پیمانے پر بیرونی اور مالی خسارے سمیت انتظامی مسائل سے دوچار ہے۔ ملک چلانے کیلئے برسراقتدار ہونے کے باوجود کوئی بھی شخص بیرونی امداد اور قرضوں سے طویل مدت کیلئے ان مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔
موجودہ انتظامیہ کو مالی طور پر مستحکم ہونے کے علاوہ آئی ایم ایف معاہدوں کی موجودگی یا غیر موجودگی میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں مہارت، شفافیت، اصلاحات اور ایک واضح مدت کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ میں سکون کیلئے مالی امداد بھی ملتی ہے۔‘‘
کامران کو یقین ہے کہ حکومت پہلے ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے جیسے کچھ ناپسندیدہ اقدامات اٹھا چکی ہے جبکہ مرکزی بینک ایک سال میں شرح سود میں 450 پوائنٹس کا اضافہ کر چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’موجودہ انتظامیہ نے دباؤ کے باوجود آئی ایم ایف سے رجوع نہیں‌ کیا جس کی وجہ سے یہ اب ایک معقول پیکج کیلئے مذاکرات کے قابل ہو گئی ہے۔
پاکستان جس طرح کا مرضی پیکج حاصل کرے اس کی شرائط پر ہر صورت عمل کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ حکومت کی آئی ایم ایف کی جانب رجوع کرنے کیلئے پہلے ہی سخت اقدامات کئے جا چکے ہیں۔ یہاں‌ تک کہ مقامی صنعتوں‌ کی بحالی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معاشی اصلاحات کا پیکج بھی متعارف کروا دیا گیا ہے۔‘‘
کیا ٹیکس سسٹم کو سادہ بنا کر، بالواسطہ ٹیکسوں سے آمدن میں اضافہ سے ایف بی آر کو خسارے سے بچنے میں مدد مل سکے گی؟
اے اے ایچ سومرو نے اپنا تبصرہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مختصر مدت کیلئے اس کا جواب منفی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’’بلاواسطہ ٹیکس سے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم یہ بہتر نہیں ہے کہ ایمانداروں کو سزا ملے اس کی قوت خرید کم ہو جائے۔ طویل مدت کیلئے یقینا اس کا جواب مثبت ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہماری معیشت میں بدعنوانی اور کرپشن کا غلبہ ہے۔ اگر فراہم کردہ مجموعی قومی پیداوار کا مشاہدہ کیا جائے تو ہمارے بالواسطہ ٹیکس وصولی کی رفتار نہایت سست ہے۔
اگر ملک کی ترقی مقصود ہو تو ٹیکس ادائیگی کے رحجان کو تقویت دینی چاہیئے اور حکومت کو ثابت کرنا پڑے گا کہ ٹیکس دہندگان کی رقم کسی سفارشی کی جیب میں نہیں جائے بلکہ اسے ترقیاتی کاموں اور فلاح کیلئے استعمال کیا جائے گا۔‘‘
مارکووچ کی نظر میں موجودہ حکومت مستحکم معاشی ترقی اور دوسری پالیسیوں سے بھی اہداف حاصل کرنے کیلئے کوشاں دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت کیلئے بڑا چیلنج شرح ترقی کا استحکام اور اصلاحات اور مضبوط مالی صورتحال کو جاری رکھنا ہے۔
آئی آئی ایف کے سینئر ریسرچ تجزیہ کار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک بنیادی مسئلہ توانائی کے شعبے میں بقایا جات کو ختم کیا جائے۔ بجلی کی قیمتیں بڑھانا ایک آسان فعل ہے لیکن اس طرح کی پالیسیوں کے کم آمدن والے شہریوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ منفی اثرات سے بچنے کیلئے کسی بھی نئی پالیسی کو مجموعی نقطہ نظر کے حساب سے عمل میں‌ لانا پڑے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا موجودہ سسٹم کا جھکاؤ بلاواسطہ ٹیکسوں کی جانب ہے اور بالواسطہ ٹیکس سے ٹیکس وصولی کے عمل کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔
جبکہ مارکووچ کا ٹیکس پالیسی کے حوالے سے کہنا تھا کہ اسے بڑے پیمانے پر نفاذ اور نگرانی کے سسٹم کا سامنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’اس وقت ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ٹیکس وصولی کے عمل میں بڑے پیمانے پر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مثال کے طور پر مؤثر کارپوریٹ انکم ٹیکس فائلرز کمرشل اور صنعتی بجلی کے صارفین کا ایک فیصد ہیں۔
اسی طرح وہ ادارے جو جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کیلئے رجسٹرڈ ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار کے قریب ہے جبکہ ریٹیلرز کی کل تعداد تقریبا 14 لاکھ ہے۔ ٹیکس وصولی کے عمل کو بہتر اور ٹیکس نظام کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ان اہداف کو ایک پالیسی سے نہیں بلکہ ایک نظام پسند نقطہ نظر سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘
کامران کے مطابق حکومت آمدن کی کمی کو پورا کرنے کیلئے بلاواسطہ ٹیکس وصولی میں اضافے کی بجائے بالواسطہ نظامِ ٹیکس کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ بالواسطہ ٹیکسوں کے اثرات مثبت مرتب ہوتے ہیں اسی لئے کم آمدن والے افراد پر دباؤ بھی کم پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’آمدن میں کمی کو پورا کرنے حکومت کو ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار بڑھا کر فائلرز کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ کرپشن، منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ جیسے دھبوں کو صاف کرنے کیلئے سخت اقدامات کی ضرورت ہے اور کسی ایمنسٹی اسکیم کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘
اے ایچ ایل کے تجزیہ کار برائے سرمایہ کاری نے کہا کہ آمدن میں‌کمی کو پورا کرنے کیلئے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کیلئے ضروری ہے کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت عوام کو اپنے ٹیکس فائل کرنے میں دلچسپی کیلئے متعدد اقدامات کر چکی ہے جس میں نان فائلر کیلئے 50 لاکھ سے زائد قیمت کی جائیداد خریدنے اور 1300 سی سی سے زیادہ کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی شامل ہے۔‘‘

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here