چین میں کاروں کی سالانہ فروخت میں 20 سال بعد کمی ریکارڈ

277

بیجنگ: چین اور امریکا کے درمیان 2018 میں معاشی جنگ کے اثرات آٹو صنعت پر پڑے اور چین میں 20 سال بعد کاروں کی سالانہ فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق چائنا پسنجر کار ایسوسی ایشن (سی پی سی ای) کے اعداد وشمار میں ظاہر کیا گیا کہ 2018 میں 2 کروڑ24 لاکھ کاریں کم فروخت ہوئیں جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 5 اعشاریہ 8 فیصد کم ہے۔
سی پی سی اے کے مطابق گزشتہ برس کے برعکس دسمبر میں کاروں کی فروخت 19 اعشاریہ 2 فیصد گر گئی۔سرکاری دستاویزات میں کہا گیا کہ گرتی ہوئی مارکیٹ نے چین کی پیداواری صنعت کو شدید متاثر کیا جو گزشتہ ماہ دو سال سے زائد عرصے کے بعد کم ہوئی۔خیال رہے کہ چین اور امریکا کے درمیان معاشی جنگ سے اندرونی معیشت سست پڑ گئی اور 2018 میں 6.5 فیصد بہتری کی توقع تھی جو 2017 کے 6.9 کے مقابلے میں کم تھی۔
برآمدات کی مایوس کن کارکردگی نے چین کو اپنی معیشت کی بہتری کے لیے صارفین کی بڑی تعداد پر انحصار کرنا پڑا۔دوسری جانب حکومت نے گزشتہ قرضوں کے خلاف بھرپور مہم چلائی اور چند صارفین کو کاروں کی خریداری میں منفعت بخش اقدامات کو روک دئیے تھے۔سی پی سی اے کے سیکریٹری جنرل کوئیڈونگشو کا کہنا تھا کہ کاروں کی فروخت میں کمی کی وجہ گزشتہ برس کا رجحان ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ معاملہ یہی ہو۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here