اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ نہیں ہوگا، ریٹنگ ایجنسی فچ

180

بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ سولیوشنز کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں مہنگائی اور شرح سود میں اضافہ نہیں ہوگا، پاکستانی معاشی شرح نمورواں سال 4اعشاریہ 4فیصدرہےگی، آئی ایم ایف سے معاہدے سے پہلے اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسی فیچ کی جانب سے پاکستانی معیشت سے متعلق رپورٹ جاری کردی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ شر ح سود اور مہنگائی میں فوری طور پر مزید اضافے کا امکان نہیں، پاکستانی معاشی شرح نمو رواں مالی سال 4اعشاریہ 4 فیصد رہےگی۔
عالمی ریٹنگ ایجنسی کاکہنا ہے کہ دوہزار اٹھارہ میں شرح سود 4اعشاریہ25 فیصد بڑھائی گئی تھی جبکہ خام تیل کی قیمت میں کمی کے باعث مہنگائی کمی متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق اخراجات میں کمی حکومت کیلئے مشکل اقدام ثا بت ہوگا، آئی ایم ایف سے معاہدے سے پہلے اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔
ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ رواں مال سال کے پہلے تین ماہ میں اخراجات میں 13اعشاریہ7 فیصد کا اضافہ ہوا اور اخراجات میں اضافہ ٹیکس وصولیوں کے اضافے سے کافی کم ہے، بجٹ خسارے کا حجم 541ارب 70کروڑ روپے تک پہنچ جائےگا جبکہ خام تیل کی علاوہ دیگر درآمدات میں کمی معیشت پر اثرانداز ہوگی۔
فیچ نے مزید کہا پاکستان برآمدات مزید کمی دیکھ رہے ہیں، برآمدات کی ڈالر مالیت گزشتہ سال کے مقابلے میں13 فیصد کم ہوئی ہے، خام تیل کی قیمت میں کمی کے باوجود پاکستان کی بیرونی کھاتے دباؤ کا شکار رہیں گے جبکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہونےکا خدشہ ہے۔
یاد رہے گذشتہ سال دسمبر میں عالمی ریٹنگز ایجنسی فیچ نے زر مبادلہ ذخائر میں کمی،خراب مالی صورتحال اور بھاری قرض ادائیگی کی وجہ سے پاکستان کی ریٹنگز میں کمی کرکے بی مائنس کردی تھی۔
فیچ کا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کے تناسب میں قرضو ں میں اضافے کی وجہ سے بیرونی مالیاتی خدشات لاحق ہیں، پاکستان کی ریٹنگز گزشتہ کافی عرصےسے مستحکم تھی، آئی ایم ایف پروگرام بیرونی مالیاتی صورتحال کو بہتر بنا سکتا تاہم اس پروگرام کے اپنے منفی اثرات بھی ہیں۔
ریٹنگز ایجنسی نے مزید کہا تھا زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل کمی ہورہی ہے، آئندہ تین برس میں فی سال نوارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کرنا ہوگی، آئندہ سال اپریل تک ایک ارب ڈالر کے یورو بونڈ کی ادائیگی بھی کرنی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here